زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 587
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے سے اپنا اقتدار قائم کیے ہوئے ہوتا ہے۔ جب آپ سماجی اور سیاسی نظام میں تبدیلی کا علم بلند کرتے ہیں تو فوراً ہی آپ کا ٹکراؤ اُن لوگوں سے شروع ہو جاتا ہے جو یہ محسوس کرتے ہیں کہ آپ اُن کو اُن کے اقتدار کے منصب سے ہٹانا چاہتے ہیں۔ کوئی بھی شخص یا گروہ اس قسم کی معزولی کو برداشت نہیں کر سکتا، اس لیے وہ فوراً اپنے دفاع کے لیے اٹھ کھڑا ہوتا ہے اور پھر فریقین کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہو جاتی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی۔ تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کے معاملے میں کسی ایک فریق کی جیت کبھی لڑائی کا خاتمہ نہیں کرتی، کیوں کہ جو فریق ہارتا ہے، وہ فوراً ہی انتقام (revenge) کی نفسیات میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ وہ اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لیے دوبارہ ایک نئی جنگ چھیڑ دیتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ کسی جوابی کارروائی کی پوزیشن میں نہ ہو، تب بھی وہ خودکش بم باری شروع کر دیتا ہے، تاکہ اگر وہ فریق ثانی کو ہرا نہیں سکتا تو کم از کم اس کو نقصان پہنچائے یا اُس کو کم از کم غیر مستحکم (unstable) کر دے۔ اس سے معلوم ہوا کہ اگر ’’کامل دین‘‘ کے نام پر اس اصول کو اختیار کر لیا جائے کہ فرد نے جس دین کو اپنے لیے اختیار کیا ہے، اُسی دین کو اُس سے اجتماع پر بھی نافذ (implement) کرنا ہے، تو اس کے نتیجے میں دونوں فریق کے درمیان ایک ایسی لڑائی شروع ہوگی جو کبھی ختم نہ ہوگی۔ یہ کوئی قیاسی بات نہیں، بلکہ یہی پوری تاریخ کا عملی تجربہ ہے۔ پریکٹیکل فارمولا ایسی حالت میں خالق کے منصوبے کو برقرار رکھتے ہوئے اسلام میں ایک ایسا اصول بتایا گیا جو ہمیشہ کے لیے امن کا ضامن بن جائے، جوہر حال میں امن کے قیام کو یقینی بنانے والا ہو۔ کیوں کہ کسی بھی قسم کی تعمیر کے لیے امن لازمی طور پر ضروری ہے امن نہیں تو تعمیری سرگرمیاں بھی نہیں۔ مذکورہ صورتِ حال کی بنا پر اجتماع کے لیے کوئی معیاری فارمولا ممکن نہیں، اس لیے اسلام میں ایڈ جسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے ایک ایسا فارمولا اختیار کیا گیا ہے جس کو اس معاملے میں پریکٹیکل فارمولا (practical formula) کہا جا سکتا ہے۔ اس فارمولے کو قرآن

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader