زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 588
By Maulana Wahiduddin Khan
میں : اَمْرُهُمْ شُورَى بَيْنَهُمْ (42:38) — یعنی، وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں — کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی اجتماعی معاملے میں وہی طریقہ اختیار کیا جائے گا جس پر اجتماعی مشورے کے بعد لوگ راضی ہو جائیں۔ شوریٰ یا جمہوریت کا اصول اجتماعی معاملے میں کسی مطلق معیار کے بجائے لوگوں کی رائے سے فیصلہ کیا جانا کوئی سادہ بات نہیں، یہ ایک اہم اجتماعی اصول ہے۔ جب انسانی مجموعہ یا مجتمع (human society) کا معاملہ ہو تو اس کے اندر نظم اجتماعی قائم کرنے کی دو صورتیں ہیں — ایک یہ کہ ایک شخص کو حاکم مطلق کی حیثیت حاصل ہو اور وہ سب کے اوپر اپنی مرضی نافذ کرے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ مجموعے کے ہر فرد کو اپنی رائے دینے کا موقع دیا جائے اور پھر یا تو اتفاقِ عام یا کثرت رائے کی بنیاد پر فیصلہ کیا جائے۔ پہلے طریقے کو آمریت (dictatorship) کہا جاتا ہے اور دوسرے طریقے کو جمہوریت (democracy)۔ اسلام میں شوریٰ کا اصول عملاً وہی ہے جس کو موجودہ زمانے میں جمہوریت کہا جاتا ہے۔ شوریٰ یا جمہوریت کا یہ اصول شرعی عقیدے کا مسئلہ نہیں ہے۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے، یہ فطرت کے ایک اصول پر مبنی ہے۔ خالق نے مصلحت امتحان کے تحت ہر عورت اور مرد کو کامل آزادی عطا کی ہے، یہ آزادی قیامت سے پہلے منسوخ ہونے والی نہیں۔ ایسی حالت میں نظم اجتماعی (socio-political system) کو کس بنیاد پر قائم کیا جائے۔ اگر نظم اجتماعی کے لیے ایک معیاری اصول مقرر کر دیا جائے اور یہ مطلوب ہو کہ پورے انسانی مجموعے کو اسی معیاری اصول کے تابع بنانا ہے۔ ایسی حالت میں لازماً یہ ہوگا کہ ابدی طور پر لوگوں کے درمیان ٹکراؤ کی حالت جاری رہے گی۔ کچھ لوگ اس معیاری اصول کو مانیں گے اور کچھ لوگ اپنے چوائس (choice) کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اس کے خلاف ہو جائیں گے۔ اس طرح سماج مستقل طور پر دو متحارب گروہ میں تقسیم ہو جائے گا، اُن کے درمیان ایسی لڑائی جاری ہو جائے گی جو کبھی ختم نہ ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader