زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 589
By Maulana Wahiduddin Khan
ایسی حالت میں ہمارے لیے دو میں سے ایک کا انتخاب (choice) ہے— ایک، معیاری اجتماعی اصول پر اصرار کرنا، جس کا نتیجہ یہ ہو کہ معیاری اجتماعی اصول تو عملاً کبھی قائم نہ ہو اور نتیجتاً انسانی معاشرہ ہمیشہ کے لیے امن (peace) سے محروم ہو جائے۔ اس معاملے میں دوسرا انتخاب یہ ہے کہ نظمِ اجتماعی کے لیے کوئی مطلوب اصول نہ ہو، بلکہ پریکٹیکل وزڈم (practical wisdom) کے اصول پر یہ کیا جائے کہ اجتماعی نظم کے معاملے میں رائے عامہ کو عملاً تسلیم کر لیا جائے۔ اس طرح سماج میں فوری طور پر امن قائم ہو جائے گا اور ہر فرد کو یہ موقع مل جائے گا کہ وہ اپنے انفرادی دائرے میں تعمیر و ترقی کا جو منصوبہ چاہے، اس کو بروئے کار لاسکے۔ فطرت کے اس اصول کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: کَمَاتَکُونُوا کَذٰلِکَ يُوَمَّرُ عَلَیْکُمْ (شعب الایمان للبیہقی، حدیث نمبر 7391)۔ یعنی، جیسے تم لوگ ہوگے، ویسے ہی تمھارے حکمران ہوں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سیاسی نظام (political administration) مطلق معنوں میں کسی اصول کے تابع نہیں ہوگا، بلکہ معاشرے کی رائے عامہ کے مطابق، اس کا تعین کیا جائے گا۔ اس بات کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ اسلام میں حکومت کے معاملے کو کسی مطلق معیار (political idealism) کے تابع نہیں کیا گیا، بلکہ وہ عملی طریقہ اختیار کیا گیا ہے جس کو سیاسی بندوبست (political adjustment) کا طریقہ کہا جاسکتا ہے۔ فطرت کا نظام قرآن کی سورہ الفرقان اس آیت سے شروع ہوتی ہے: تَبَارَکَ الَّذِی نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُونَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرًا (25:1)۔ یعنی، بڑا بابرکت ہے اللہ جس نے فرقان (قرآن) اتارا، تاکہ وہ سارے عالم کے لیے آگاہ کرنے والا بنے۔ اس آیت کے مطابق، قرآن ایک کتاب فرقان ہے، یعنی فرق کرنے والی کتاب۔ فرق فرق کا مبالغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: الْفَصْلُ بَیْنَ الشَّیْئَیْنِ (دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا)۔ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader