زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 590
By Maulana Wahiduddin Khan
بلاشبہ انسان کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ موجودہ دنیا میں امتحان کی مصلحت کی بنا پر تمام چیزیں غیر ممیز حالت میں پائی جاتی ہیں۔ انسان کی یہ لازمی ضرورت ہے کہ وہ ان چیزوں کو درست طور پر سارٹ آؤٹ (sort out) کر سکے۔ ایسا نہ کرنے کی صورت میں انسان فکری اعتبار سے، کنفیوژن (confusion) کا شکار ہو جائے گا اور عملی اعتبار سے وہ اپنے کاموں کا نتیجہ خیز پلانگ نہ کر سکے گا۔ اس اصول کو دوسرے الفاظ میں فطرت کا نظام کہا جا سکتا ہے۔ اس دنیا میں کوئی بھی کامیابی صرف اُس وقت ممکن ہے جب کہ فطرت کے اس نظام کو ملحوظ رکھتے ہوئے زندگی کا نقشہ بنایا جائے۔ انسان بظاہر وسیع کائنات کا ایک حصہ ہے، لیکن انسان کی ایک ممیز صفت ہے جو بقیہ کائنات میں موجود نہیں، وہ یہ کہ انسان کی زندگی بیک وقت دو مختلف تقاضوں کا مجموعہ ہوتی ہے ـــ فرد (individual) اور اجتماع (society) ۔ مطالعہ بتاتا ہے کہ فرد اور اجتماع کے تقاضے مشترک ہونے کے باوجود ایک دوسرے سے بہت زیادہ مختلف ہیں، بلکہ بعض اوقات ایک دوسرے سے متضاد ہیں، حتیٰ کہ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ انسان کی زندگی گویا ایک قسم کا مجموعۂ اضداد (mixture of opposites) کی حیثیت رکھتی ہے۔ بقیہ کائنات کا معاملہ اس سے مختلف ہے، بقیہ کائنات میں یہ تقسیم موجود نہیں۔ بقیہ کائنات کا معاملہ یہ ہے کہ جو ایک درخت کا کیس ہے، وہی پورے باغ کا کیس ہے، جو ایک قطرہ آب کا کیس ہے، وہی پورے سمندر کا کیس ہے، جو ایک ستارے کا کیس ہے، وہی پوری کہکشاں کا کیس بھی ہے۔ بقیہ کائنات میں واحدہ (unit) اور مجموعہ دونوں کا کیس یکساں ہے، دونوں کے درمیان کوئی فرق نہیں۔ انسان کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ انسانی زندگی کی منصوبہ بندی میں اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ رکھنے کا نام کامیابی ہے اور اس فرق یا اختلاف کو ملحوظ نہ رکھنے کا نام ناکامی۔ تاریخ کی تصویر تاریخ میں جو سوچنے والے لوگ (thinkers) گزرے ہیں، اُن میں سے تقریباً ہر ایک کا یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader