Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 591

By Maulana Wahiduddin Khan

حال ہوا ہے کہ انھوں نے اپنی سوچ کے مطابق، ایک عظیم فکری نشانہ (great vision) کے ساتھ اپنی زندگی کا آغاز کیا۔ لیکن ساری کوشش کے بعد آخر میں وہ اپنے نشانہ (goal) کو حاصل کرنے کے بارے میں ناامید ہوگئے ۔ اور جب وہ دنیا سے گئے تو وہ مایوسی (despair) کا کیس بن چکے تھے۔ ارسطو (Aristotle) سے لے کر برٹرنڈ رسل تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے آئیڈیل گورنمنٹ کے قیام کو اپنا نشانہ بنایا، لیکن ساری کوشش کے باوجود وہ عملاً آئیڈیل گورنمنٹ نہ بنا سکے ۔ لیوٹالسٹاے (Leo Tolstoy) سے لے کر مہاتما گاندھی تک کتنے لوگ ہیں، جنھوں نے پرامن دنیا (peaceful world) بنانے کا خواب دیکھا، لیکن اُن کا خواب کبھی عملی واقعہ نہ بن سکا، یہاں تک کہ ناکامی کے احساس کے ساتھ وہ اس دنیا سے چلے گئے۔ سید قطب سے لے کر ڈاکٹر محمد مرسی (مصر) تک کتنے لوگ ہیں جنھوں نے اپنا یہ مشن بنایا کہ ان کو دنیا میں انصاف (justice) پر مبنی نظام قائم کرنا ہے، مگر اُن کا آخری احساس یہ تھا کہ ساری کوشش کے باوجود دنیا میں وہ اپنا مطلوب نظام قائم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکے۔ اُن سب کا حال وہی ہوا جو رابندر ناتھ ٹیگور نے تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا تھا—ساری عمر بینا (ستار) کے تاروں کو سلجھانے میں بیت گئی، مگر جو آتم گیت میں گانا چاہتا تھا، وہ میں نہ گا سکا۔ منصوبہ تخلیق یہ پوری تاریخ کا ایک عظیم فکری المیہ (intellectual tragedy) ہے۔ اس کا سبب صرف ایک ہے— زندگی کے بارے میں خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) سے بے خبر ہونا اور خود ساختہ ذہن (self-styled mindset) کے تحت منصوبہ بنا کر اس کو ایک ایسی دنیا میں بروئے کار لانے کی کوشش کرنا جو اُس کے مطابق ، بنائی نہیں گئی تھی۔ یہی وہ حقیقت ہے جو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کی گئی ہے: قُلْ کُلٌّ یَّعْمَلُ عَلٰی شَاکِلَتِہٖ فَرَبُّکُمْ اَعْلَمُ بِمَنْ ھُو اَهْدٰی سَبِیْلاً (17:84)۔ یعنی، ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے ۔ اب تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کون زیادہ ٹھیک راستے پر ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page