Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 592

By Maulana Wahiduddin Khan

قرآن کی اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ خالق کا منصوبۂ اشیا (scheme of things) ہی صحیح تخلیقی منصوبہ ہے۔ اُس کا اتباع کر کے دنیا میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ خالق کے منصوبے کو جاننے کی کوشش نہیں کرتے۔ وہ صرف اپنے فکری شاکلہ (mindset) کو جانتے ہیں اور اُسی کے مطابق عمل شروع کر دیتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ اپنے کاگ (cog) کو خالق کے کاگ سے نہیں ملاتے۔ اِس بنا پر اُن کا منصوبہ غیر حقیقت پسندانہ بن جاتا ہے۔ اِس معاملے میں لوگوں کی عمومی ناکامی کا اصل سبب یہی ہے۔ اِس سلسلے میں ایک بنیادی پہلو یہ ہے کہ خالق نے انسان کو مصلحتِ امتحان کی بنا پر مکمل آزادی (total freedom) عطا کیا ہے۔ ہر انسان کو کلی طور پر یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ جو چاہے کرے اور جو چاہے نہ کرے۔ اِس تخلیقی نقشے کی بنا پر عملاً یہ بات ناممکن ہو گئی ہے کہ اِس دنیا میں عوام (masses) کی سطح پر کوئی آئیڈیل نظام بنایا جا سکے۔ کیوں کہ کچھ لوگ اگر اس سے اتفاق کریں گے تو کچھ لوگ اپنے اختیار کا آزادانہ استعمال کرتے ہوئے اِس کے خلاف ہو جائیں گے اور پھر وہ مجوزه اجتماعی اسکیم کو درہم برہم کر دیں گے۔ تاریخ میں بار بار ایسے واقعات پیش آئے ہیں، جب کہ ایک شخص یا چند اشخاص نے بڑی بڑی اسکیموں کا خاتمہ کر دیا۔ خالق کے اس نقشے کی بنا پر حقیقت پسندانہ رویہ یہ ہے کہ آدمی اِس سے مطابقت کرتے ہوئے اپنا نقشہ بنائے۔ ہر انسان کو پیشگی طور پر یہ جاننا چاہیے کہ اس کا منصوبہ صرف اُس وقت کامیاب ہو سکتا ہے، جب کہ وہ خالق کے نقشے کے ساتھ مکمل مطابقت رکھتا ہو۔ خالق کے نقشے سے ادنیٰ انحراف بھی یقینی طور پر اس کے منصوبے کو ناکام بنا دے گا، خواہ بطور خود وہ اس کو کتنا ہی زیادہ اچھا سمجھتا ہو۔ انفرادی معیار پسندی، اجتماعی عملیت اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے غور کیا جائے تو موجودہ دنیا میں قابلِ عمل منصوبے کا اصول صرف ایک ہے، اور وہ ہے فرد (individual) اور اجتماع (society) کو ایک دوسرے سے الگ کر کے منصوبہ بنانا۔ فرد کے تقاضے اور اجتماع کے تقاضے کے درمیان فرق کی رعایت کرتے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page