Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 593

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا یہی فطری طریقہ ہے۔ اس فطری طریقے کا اصول مختصر طور پر یہ ہے : 1۔ فرد کے لیے نظری معیار (individual idealism) 2۔ اجتماع کے لیے عملی امکان (social pragmatism) فرد کا معاملہ یہ ہے کہ اس میں عامل اور معمول دونوں ایک ہوتے ہیں۔ فرد کے کیس میں ایک آدمی خود معیار مقرر کرتا ہے اور خود اس کے اپنے اختیار میں یہ ہوتا ہے کہ وہ اس معیار کو اپنی زندگی میں اختیار کرے۔ اس لیے فرد کے کیس میں کسی معیار کو عمل کی صورت دینا پوری طرح ممکن ہوتا ہے۔ اسی لیے اللہ کے یہاں لوگوں کا درجہ فرد کی نسبت سے متعین ہوگا، نہ کہ مجموعہ کی نسبت سے۔ ہر فرد کو چاہیے کہ وہ جس اصول کو درست سمجھتا ہے، اس کو وہ اپنی ذاتی زندگی میں پوری طرح اختیار کرے۔ وہ اس معاملے میں کسی سے سمجھوتہ (compromise) نہ کرے۔ یہی وہ اصول ہے جس کو ہم نے انفرادی معیار پسندی (individual idealism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ اس کے بعد جہاں تک اجتماع یا انسانی مجموعہ کا تعلق ہے، اس کے معاملے میں قانون فطرت کے مطابق، جو چیز قابل عمل ہے، وہ صرف یہ ہے کہ ممکن الحصول اور ناممکن الحصول کے درمیان فرق کرتے ہوئے اپنا منصوبہ بنانا، یعنی ذاتی ماڈل کو چھوڑ کر عملی ماڈل اختیار کرنا، اجتماع کے درجہ قبولیت (level of acceptance) کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے عمل کا نقشہ بنانا۔ یہی وہ عملی حقیقت (practical wisdom) ہے جس کو ہم نے اجتماعی عملیت (social pragmatism) کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ تاریخ میں جو مفکرین عملاً ناکام ہو گئے، اُن کی ناکامی کا مشترک سبب یہی ہے کہ انھوں نے ذاتی سوچ کے تحت اپنے ذہن میں اجتماع کا ایک خوب صورت ماڈل بنایا اور پھر اس کو وقوع میں لانے کے لیے پر شور تحریکیں شروع کر دیں۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کا تصوراتی ماڈل حقائق کی چٹان سے ٹکرا کر بکھر گیا۔ معیار (ideal) مجموعے کی سطح پر ناقابل حصول ہے، لیکن فرد (individual) کی سطح پر بلاشبہ وہ قابلِ حصول ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page