Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 594

By Maulana Wahiduddin Khan

مذہب اور سیاست فرد اور اجتماع کے درمیان اسی فرق کی بنا پر اسلام میں مذہب اور سیاست کو ایک دوسرے سے الگ کر دیا گیا۔ مذہب کا نشانہ ذاتی ارتقا (personal development) ہے، یعنی ربانی بنیادوں پر فرد کی تعمیر۔ اس اعتبار سے، مذہب اُس دائرے کی چیز ہے جس کے لیے ہم نے انفرادی معیار پسندی (individual idealism) کا لفظ استعمال کیا ہے۔ اس کے برعکس، سیاسی اقتدار کا معاملہ پورے انسانی مجموعے سے تعلق رکھتا ہے اور قانون فطرت کے مطابق، پورے انسانی مجموعے کو ایک معیار پر ڈالا نہیں جا سکتا۔ ایسی حالت میں قابلِ عمل صورت صرف یہ ہے کہ سیاسی اقتدار کے معاملے کو اُس دائرے کی چیز قرار دیا جائے جس کے لیے ہم نے اجتماعی عملیت (social pragmatism) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق اسی عملی اصول (practical wisdom) کی بنا پر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرد کو معیاری اصول پر قائم ہونے کی تاکید کی جائے، لیکن ذاتی اقتدار کے معاملے میں اٗس اصول کو اختیار کر لیا جائے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: كَمَا تَكُونُونَ يُوَلَّى أَوْ يُؤَمَّرَ عَلَيْكُم (شعب اليمان للبيهقی، حديث نمبر 7391)_ یعنی، تم جیسے ہوگے، ویسے تمھارے حکراں ہوں گے۔ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ سیاسی اقتدار کے معاملے میں سماجی قبولیت (social acceptability) کو دیکھا جائے گا، نہ کہ کسی مطلق معیار (absolute ideal) کو۔ یہ فطرت کا اصول ہے۔ اس اصول کی بنیاد پر زندگی کی تشکیل کی جائے تو سماج میں ہمیشہ امن قائم رہے گا، کیوں کہ امن کی حالت ہر قسم کی ترقی کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ اس کے برعکس، اگر فطرت کے اس اصول کو نظر انداز کر دیا جائے اور فرد اور مجموعہ کو ایک ہی نظام کا پابند بنانے کی کوشش کی جائے تو ابدی طور پر امن کا خاتمہ ہو جائے گا۔ اس کے بعد سماج میں نفرت اور ٹکراؤ اور تشدد جیسی برائیاں جنم لیں گی جو کبھی ختم نہ ہوں گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page