زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 604
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک پیدا ہورہے ہیں۔ اُن میں سے کوئی فرد اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے اور کوئی غلط استعمال۔ عین اِسی وقت ایک غیبی نظام کے تحت فرشتے ہر ایک کا پورا ریکارڈ تیار کر رہے ہیں۔ یہ ریکارڈ قیامت کے دن اللہ کے سامنے پیش ہوگا۔ اُس وقت جو ہوگا ، اس کو قرآن میں پیشگی طور پر مختلف الفاظ میں بیان کر دیا گیا ہے۔ مثلاً کہا گیا ہے: فَرِيقٌ فِي الْجَنَّةِ وَفَرِيقٌ فِي السَّعِيرِ (7: 42)۔ یعنی ، ایک گروہ جنت میں ہوگا اور ایک گروہ جہنم میں۔ تخلیق کے اس تصور کے مطابق، آخرت میں یہ ہوگا کہ پوری نسل انسانی سے صالح افراد چنے جائیں گے، یعنی وہ لوگ جنھوں نے یہ ثبوت دیا تھا کہ آزادی کے باوجود انھوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال نہیں کیا۔ آزادی کے باوجود وہ کامل معنوں میں با اصول زندگی کے پابند رہے، آزادی کے باوجود انھوں نے اپنے آپ کو پوری طرح بے راہ روی سے بچایا۔ اِس طرح انھوں نے ثابت کیا کہ وہ جنت کے آئیڈیل معاشرے میں بسائے جانے کا استحقاق رکھتے ہیں۔ آخرت میں پوری تاریخ بشری کے ان منتخب افراد کو جنت کے معیاری معاشرے میں بسایا جائے گا، اور بقیہ لوگ جو اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرنے میں ناکام رہے، اُن کو دوسرے انسانوں سے الگ کر کے کائناتی کوڑا خانہ (universal litterbin) میں ڈال دیا جائے گا، جس کا دوسرا نام جہنم ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader