زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 605
By Maulana Wahiduddin Khan
خلافت کا تصور قرآن کی سورۃ البقرہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب انسان کو پیدا کیا تو اللہ اور فرشتوں کے درمیان ایک مکالمہ ہوا۔ اس مکالمے کے دوران اللہ نے انسان کی پیدائش کا مقصد اس طرح بیان کیا: وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً (2:30)۔ یعنی، یاد کرو اُس وقت کو جب کہ تمھارے پروردگار نے فرشتوں سے کہا کہ میں زمین میں ایک خلیفہ بنانے والا ہوں۔ ’خلافت‘ کے لغوی معنی ہیں: بعد کو آنا۔ ’خلیفہ‘ کا مطلب ہے: کسی کے بعد اس کی جگہ پر آنے والا، یعنی جانشین (successor)۔ خلیفہ کا اصل لفظی مطلب یہی ہے، لیکن اس طرح کسی کے بعد جو شخص جانشین بنتا ہے، وہ عام طور پر صاحب اقتدار ہوتا ہے، اس لیے استعمال میں خلیفہ کا لفظ مجرد طور پر صاحب اقتدار کے لیے بولا جانے لگا، خواہ ایسا شخص جانشین کے طور پر صاحب اقتدار بنا ہو یا جانشینی کے بغیر اس کو یہ پوزیشن حاصل ہوگئی ہو۔ قرآن کی اس آیت میں خلیفہ کا لفظ اسی دوسرے مفہوم میں استعمال ہوا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ نے انسان کو زمین پر ایک با اختیار مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا۔ ایک عارضی مدت کے لیے زمین انسان کے چارج میں دے دی گئی۔ نظامِ فطرت کے مطابق، اگرچہ زمین کا انتظام انسان چلا رہے ہیں جس طرح کائنات کے دوسرے حصوں کا انتظام فرشتے چلا رہے ہیں۔ لیکن محدود معنی میں زمین انسان کے چارج میں ہے۔ قیامت تک کے لیے انسان کو کامل اختیار ہے کہ وہ اپنے دائرے میں زمین پر آزاد مخلوق کی حیثیت سے زندگی گزارے، خواہ وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرے یا غلط استعمال۔ قرآن فہمی کا ایک اصول یہ ہے: القرآن یفسر بعضہ بعضا (قرآن کا ایک حصہ اُس کے دوسرے حصے کی تفسیر کرتا ہے)۔ اس اصول کے مطابق، غور کیا جائے تو قرآن کی متعدد آیتوں سے واضح ہوتا ہے کہ انسان کو خلیفہ بنانے کا مطلب کیا ہے۔ اُن میں سے ایک آیت یہ ہے: ثُمَّ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader