زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 606
By Maulana Wahiduddin Khan
جَعَلْنَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ مِنْ بَعْدِهِمْ لِنَنْظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ (10:14) ۔ یعنی، پھر ہم نے ان کے بعد تم کو ملک میں جانشین بنایا تا کہ ہم دیکھیں کہ تم کیسا عمل کرتے ہو۔ اصل یہ ہے کہ انسان کو اللہ تعالی نے ایک کامل مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ اپنی صلاحیتوں کے اعتبار سے، پہلا انسان اتنا ہی کامل تھا، جتنا کہ اکیسویں صدی کا انسان۔ لیکن جس سیارہ ارض (planet earth) پر انسان کو بسایا گیا، وہاں تمام چیزیں موجود تھیں، لیکن یہ چیزیں زیادہ تر بالقوہ (potential) طور پر موجود تھیں۔ اب یہ انسان کا کام تھا کہ وہ اس بالقوہ کو بالفعل (actual) بنائے۔ پوری انسانی تاریخ اس معاملے کی تصویر ہے۔ وہ بالقوہ سے بالفعل کی طرف سفر کر رہی ہے۔ اس سفر کے لیے انسانی زبان میں سب سے زیادہ موزوں لفظ تہذیب ہے۔ پوری انسانی تاریخ، آدم سے لے کر قیامت تک ، اسی تہذیبی سفر کا دوسرا نام ہے۔ خالق نے کرۂ ارض کو تہذیب کے مقام یا مقر(abode of civilization) کے طور پر بنایا۔ انسان کا کام یہ تھا کہ وہ اس پوٹنشیل تہذیب (potential civilization) کو ایکچول تہذیب (actual civilization) کی صورت میں ڈیولپ کرے ۔ اسی رول کو انجام دینے والے کا نام خلیفہ ہے، خواہ وہ مذہبی انسان ہو یا سیکولر انسان۔ تہذیب کا لفظ عام طور پر مادی ترقی کے معنی میں بولا جاتا ہے۔ معروف تصور کے مطابق، تہذیب کا مطلب ہے ۔ سوشل، کلچرل اور سائنٹفک ترقی کا اعلیٰ مرحلہ۔ مگر تہذیب کی یہ تعریف ایک محدود تعریف ہے۔ تہذیب کے تصور کو پوری طرح سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کو خدا کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کے پس منظر میں دیکھا جائے ۔ چونکہ تہذیب کے معمار خود سے کوئی چیز تخلیق نہیں کرتے، وہ خالق کے پیدا کردہ ذرائع (natural resources) یا انفراسٹرکچر کو استعمال کرتے ہوئے تہذیب کا سفر جاری کرتے ہیں۔ گویا کہ تہذیب کے تمام انسانی معمار، خالق کے کارندے ہیں۔ وہ خدا کے تخلیقی منصوبے کو واقعے کی صورت دے رہے ہیں۔ تہذیب کا یہ سفر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ربانی تہذیب کا سفر ہے۔ وہ انسان کو اُس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader