زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 607
By Maulana Wahiduddin Khan
منزل کی طرف لے جانے والا ہے جہاں وہ حمد الہیٰ اور شکر خداوندی کا اعلیٰ تجربہ کرے، جہاں وہ ربانی معرفت کے اعلیٰ مراتب کو حاصل کر سکے۔ مگر یہ کام چونکہ انسانی آزادی کو برقرار رکھتے ہوئے انجام دیا جا رہا ہے، اس لیے لوگ اس کی معنویت کو سمجھنے سے قاصر رہے۔ تہذیب کے اس سفر کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی انسانی آزادی سے پیدا ہونے والی خرابیوں (evils) کو الگ کر کے یہ دیکھ سکے کہ خدا کس طرح انسانی تاریخ کو مبینچ کر رہا ہے۔ انسانی تاریخ کو بامعنی طور پر سمجھنے کے لیے سب سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ مبصر، انسانی عنصر کو الگ کر کے تاریخ میں عمل کرنے والے خدائی عنصر کو دیکھ سکے۔ ایک جائزہ اللہ نے انسان کو کامل آزادی عطا فرمائی ہے۔ یہ آزادی اس لیے ہے تا کہ انسان خود سے چیزوں کو دریافت کرے، وہ اپنے اندر ایک خود تعمیر کردہ شخصیت (self-developed personality) بنائے ۔ انسان کبھی اپنی آزادی کو صحیح استعمال کرتا ہے اور کبھی غلط استعمال ۔ لیکن اللہ اپنی قوت قاہرہ کے ذریعے تاریخ کو مبینچ کرتے ہوئے اُس کو اِس منزل کی طرف لے جا رہا ہے جو اس کی اصل منزل ہے، یعنی معرفت خداوندی (realization of God) کی تکمیل ۔ اللہ نے انسانیت کے آغاز سے پیغمبروں کو بھیجنے کا جو سلسلہ جاری کیا، وہ اس لیے تھا کہ پیغمبر، انسان کو خدا کے تخلیقی منصوبے سے باخبر کریں اور یہ کوشش کریں کہ انسانی تہذیب کا سفر صحیح رخ (right direction) میں جاری رہے۔ مگر تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ انسان اپنی آزادی کو استعمال کرنے میں زیادہ ذے دار ثابت نہیں ہوا۔ بہت جلد ایسا ہوا کہ تاریخ عمومی طور پر توحید کے راستے سے ہٹ کر شرک کے راستے پر چل پڑی۔ اس کا سبب یہ تھا کہ انسان نے پایا کہ پیغمبر جس اللہ کی خبر دے رہے ہیں، وہ اللہ اس کو دکھائی نہیں دیتا، البتہ اللہ کی پیدا کردہ مخلوقات ہر طرف دکھائی دے رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ انسان نے نہ دکھائی دینے والے خدا کو چھوڑ کر، دکھائی دینے والی چیزوں کو اپنا خدا سمجھ لیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader