زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 608
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ واقعہ کس طرح ہوا، اس کا اشارہ قرآن کے ان الفاظ میں ملتا ہے: ہٰذَا رَبِّيْ ہٰذَاۤ اَكْبَرُ (6:78)۔ یعنی، ہر وہ چیز جو بظاہر بڑی (great) دکھائی دے، اس کو خدا یا شریک خدا سمجھ لینا ۔ اسی سے قدیم تاریخ میں شرک کی وہ صورت پیدا ہوئی جس کو مظاہر فطرت کی پرستش (nature worship) کہا جاتا ہے۔ فطرت پرستی کا یہ نظریہ لوگوں میں بہت مقبول ہوا۔ اس کا سبب یہ تھا کہ پچھلے زمانے کے تمام بادشاہ فطرت پرستی کو اپنے لیے موزوں (convenient) سمجھ کر اس مذہب کی سرپرستی کرنے لگے۔ انھوں نے اسی مشرکانہ مذہب سے اپنے لیے حق حکمرانی (mandate) لینا شروع کر دیا۔ اس طرح ایسا ہوا کہ قدیم زمانے میں ساری دنیا میں شرک کو سرکاری مذہب (official religion) کی حیثیت حاصل ہو گئی۔ شرک اور سیاسی اقتدار کے اسی تعلق (nexus) کے نتیجے میں قدیم زمانے میں شرک کو ساری دنیا میں دبّد بہ حاصل ہو گیا۔ شرک کا یہ دبدبہ مذہب توحید کے لیے سب سے بڑی رکاوٹ تھا۔ شرک کے اسی دبدبے کو قرآن میں فتنہ (8:29) کہا گیا ہے۔ شخصی حکومت قدیم زمانے میں ہزاروں سال سے ساری دنیا میں حکومت کا وہ نظام قائم تھا جس کو شخصی بادشاہت (Monarchy) کہا جاتا ہے۔ شخصی بادشاہت بہت جلد شخصیت پرستی (personality cult) میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اور پھر شخصیت پرستی رفتہ رفتہ بت پرستی (idol worship) کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قدیم زمانے میں ایسا ہوا کہ شخصی حکومتیں آخر کار مشرکانہ حکومتیں بن گئیں۔ اس کی ایک مثال یہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے معاصر بادشاہ فرعون نے کہا کہ : أَنَا رَبُّكُمُ الْأَعْلَى (79:24)۔ یعنی، پس اس نے کہا کہ میں تمہارا سب سے بڑا رب ہوں۔ قدیم زمانے میں شخصی حکومت کا نظام سب سے بڑی برائی (greatest evil) بن کر ابھرا۔ یہ انسانی آزادی کا سب سے زیادہ سنگین استعمال تھا۔ دنیا میں اس نظام کو جمہوری انقلاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader