زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 609
By Maulana Wahiduddin Khan
کے ذریعے سیاسی طور پر ختم کیا گیا۔ آخرت میں باعتبارِ حقیقت اُس کی مجرمانہ حیثیت کا اعلان کیا جائے گا۔ یہی وہ حقیقت ہے جس کو ایک حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يَقْبِضُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ ثُمَّ يَقُولُ أَنَا الْمَلِكُ، أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر، 2787)۔ خلافت کے تین دور قرآن میں خلافت کے معنیٰ ”اسلامی خلافت“ کے نہیں ہیں۔ قرآن کے مطابق، وہ تمام لوگ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ (10:14) ہیں جن کو مختلف زمانوں میں با اختیار رول ملا، خواہ وہ اپنے عقیدے کے اعتبار سے، مذہبی ہوں یا غیر مذہبی۔ تاریخ میں جن لوگوں کو باری باری خلافتِ ارضی کا رول ادا کرنے کا موقع ملا، اُن کو تین گروہوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ 1۔ مشرکین کی خلافت ــــ یہ دور قدیم زمانے سے لے کر ساتویں صدی عیسوی تک جاری رہا۔ 2۔ موحدین کی خلافت ــــ یہ مسلم سلاطین کا دور ہے۔ یہ دور تقریباً آٹھویں صدی سے لے کر اٹھارھویں صدی تک قائم رہا۔ 3۔ سیکولر لوگوں کی خلافت ــــ یہ دور انیسویں صدی عیسوی میں شروع ہوا اور اب تک قائم ہے۔ قدیم زمانے میں جن مشرک گروہوں کو خلافتِ ارضی کا رول ادا کرنے کا موقع ملا، انھوں نے اپنی آزادی کا نہایت غلط استعمال کیا۔ ان کی سب سے بڑی غلطی یہ تھی کہ انھوں نے ناحق طور پر ساری دنیا میں جبر کی حکومت (despotic rule) کا نظام قائم کر دیا۔ اس دور میں انسان کو مذہبی آزادی حاصل نہ تھی۔ اس دور میں ہر جگہ وہ کلچر قائم تھا جس کو مذہبی تشدد کا دور کہا جاتا ہے۔ اس مشرکانہ دور میں آزادانہ سوچ (free thinking) کا خاتمہ ہو گیا تھا۔ اس بنا پر فکری ارتقا کا عمل پوری طرح ختم ہو گیا تھا۔ علم کی ترقی عملاً ناممکن ہو گئی تھی۔ اس کا ایک شدید نقصان یہ تھا کہ فطرت (nature) میں تحقیق کا کام پوری طرح رک گیا تھا۔ اللہ کو یہ مطلوب تھا کہ انسان فطرت میں چھپے ہوئے قوانین کو دریافت کرے، تا کہ انسان پر اعلیٰ معرفت کے دروازے کھلیں،

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader