زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 610
By Maulana Wahiduddin Khan
دعوتی عمل کو زیادہ مؤثر طور پر انجام دینا ممکن ہو جائے۔ مگر مشرکانہ اقتدار کے زمانے میں اس قسم کا عمل پوری طرح بند ہو گیا تھا۔ اللہ نے کثیر تعداد میں پیغمبر بھیجے، تا کہ وہ انسان کو بتائیں کہ وہ اپنی آزادی کو غلط استعمال کر کے اللہ کے منصوبے میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ لیکن پیغمبروں کی پُرامن دعوتی کوشش عملاً غیر مؤثر ہو گی۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے تخلیقی منصوبے کی بنا پر انسان کی آزادی کو تو ختم نہیں کیا، البتہ یہ فیصلہ کیا کہ خلافتِ ارضی کا رول مشرکین سے چھین لیا جائے اور اس کو موحدین کے حوالے کر دیا جائے ۔ یہی خدائی فیصلہ تھا جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَقَاتِلُوهُمْ حَتَّىٰ لَا تَكُونَ فِتْنَةٌ وَيَكُونَ الدِّينُ كُلُّهُ لِلَّهِ (8:39) ۔ یعنی، اور ان سے لڑو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین سب اللہ کے لیے ہو جائے۔ قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے، اُس کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگی کہ دورِ شرک اپنے وجود کا جواز ختم کر چکا ہے، اس کو توڑ کر دورِ توحید کا آغاز کرو، تا کہ انسان کے اوپر اللہ کی ابدی رحمتوں کے دروازے کھلیں۔ جیسا کہ معلوم ہے، پیغمبر اور آپ کے پیروؤں نے واقعتاً ایسا ہی کیا۔ پیغمبر اور آپ کے ساتھیوں نے دو قدیم کی تقریباً آباد دنیا میں وہ کام کیا جس کو ایک مبصر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے کہ۔ پیغمبر اور اُن کے پیروؤں نے قدیم زمانے کے پورے سیاسی نقشے کو بدل دیا۔ اس طرح خلافتِ ارضی کا رول مسلمانوں یا موحدین کے ہاتھ میں آ گیا۔ مسلمانوں نے اس عہد میں جو رول ادا کیا، وہ کوئی نظام قائم کرنا نہ تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ نظام قائم کرنا امتِ مسلمہ کا نشانہ ہی نہیں۔ مسلم عہد میں جو کام انجام پایا، اس کے دو بڑے پہلو تھے — ایک تھا دنیا میں آزادی کا دور لانا اور دوسرے، علومِ فطرت کے انکشاف کا دروازہ کھولنا۔ قرآن میں کہا گیا تھا کہ: أَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ (42:38) ۔ یعنی، اور وہ اپنا کام آپس کے مشورے سے کرتے ہیں۔ یہ آیت کسی محدود معنی میں نہیں ہے۔ اس آیت میں دراصل ایک مطلوب عالمی انقلاب کی خبر دی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کو یہ مطلوب ہے کہ دنیا سے شخصی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader