زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 611
By Maulana Wahiduddin Khan
حکومت کا دور ختم ہو اور اس کے بجائے جمہوری حکومتوں کا دور آئے ، تاکہ انسان کو یہ موقع ملے کہ وہ آزادی کے ساتھ سوچ سکے ، تاکہ انسان کے پوٹینشل کی انفولڈنگ ہو ، تاکہ انسان کو فطرت کے رموز کی دریافت کا موقع ملے ، تاکہ ربانی تہذیب کو قلم بند کرنے کا وہ دور شروع ہو جس کا ذکر قرآن میں ان شاہانہ الفاظ میں کیا گیا ہے: وَلَوْ أَنَّ مَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ (31)۔ یعنی ، اور اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں اور سمندر ، سات مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں ، تب بھی اللہ کی باتیں ختم نہ ہوں۔ بیشک اللہ زبردست ہے ، حکمت والا ہے۔ جمہوریت کا دور دورِ جمہوریت دراصل دورِ آزادی کا دوسرا نام ہے۔ اللہ کے تخلیقی نقشے کے مطابق ، زمین پر آزادانہ ماحول کا باقی رہنا بے حد ضروری ہے۔ انسان سے جو رول مطلوب ہے ، وہ صرف آزادی کے ماحول میں ممکن ہے۔ جمہوریت کا یہ دور مسلم عہد میں شروع ہوا۔ وہ پر اس کے روپ میں آگے بڑھتا رہا ، یہاں تک کہ 1789 میں انقلاب فرانس کی صورت میں اس کی تکمیل ہوئی۔ جمہوریت (democracy) انسانی تاریخ کا ایک عظیم مرحلہ ہے۔ اس دور میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ آزادی اور امن انسان کا اپنا چوائس (choice) بن گیا ہے۔ اس سے پہلے ایسا تھا کہ کسی انسان کو آزادی اور امن صرف اُس وقت ملتا تھا ، جب کہ حاکم وقت اس کو بطور عطیہ اُس سے دے دے۔ اب یہ معاملہ کسی دینے والے کا عطیہ نہیں رہا ، بلکہ وہ ہر انسان کا مطلوب حق (absolute right) بن چکا ہے۔ کسی بھی شخص یا گروہ کے لیے ممکن نہیں کہ وہ اس حق کو آپ سے چھین لے ۔ موجودہ زمانے میں بہت سے لوگ ملیں گے جو یہ شکایت کریں گے کہ اُن کو آزادی اور امن کے ماحول میں کام کرنے کے مواقع حاصل نہیں۔ ایسے لوگ بلاشبہ زندگی کے راز سے بے خبر ہیں۔ موجودہ زمانے میں آزادی اور امن کی جو نعمت ملی ہے ، اس کو استعمال کرنے کے لیے ضروری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader