Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 612

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ آدمی اس حکمت کو جانے کہ اس کو اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کرنا ہے جو دوسرے سے ٹکراؤ کے بغیر جاری کیا جا سکے ۔ اگر آپ اپنے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو دوسروں کی زندگی میں خلل ڈالنے والا ہو تو آپ کے حصے میں صرف شکایت اور پروٹسٹ آئے گا ، لیکن اگر آپ اپنے عمل کے لیے ایسا نشانہ مقرر کریں جو کسی حال میں دوسروں کے لیے مسئلہ (problem) نہ بنے، تو آپ ساری عمر کام کرتے رہیں گے اور کبھی آپ کو دوسروں کے خلاف شکایت نہ ہوگی۔ یہی وہ راز ہے جو قرآن کی اس آیت میں بتایا گیا ہے : اَلسُّلْحُ خَيْرٌ (4: 128)۔ یعنی ، اور صلح بہتر ہے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ تم ایسا نشانہ مقرر کرو جس میں دوسروں سے ٹکراؤ نہ پیش آتا ہو۔ اگر تم ایسا کرو گے تو تمھارے لیے اس دنیا میں خیر ہی خیر ہو گا۔ تمھارے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ تم دوسروں کے خلاف شکایت سے محفوظ رہتے ہوئے اپنے کام کو مکمل کرو۔ جو آدمی شکایت کی زبان بولے، وہ صرف یہ اعلان کر رہا ہے کہ اس نے اپنے لیے غلط نشانے کا انتخاب کیا تھا۔ یہ معاملہ خود اپنے نشانے کی غلطی کا معاملہ ہے، نہ کہ دوسروں کے ظلم یا دشمنی کا معاملہ۔ مسلم دورِ سلطنت میں دوسرا جو بڑا کام ہوا، وہ یہ کہ فطرت کو پرستش کے موضوع سے ہٹا کر تحقیق کا موضوع بنا دیا گیا۔ یہ عمل بھی تدریجی طور پر جاری ہوا اور آخر کار اُس علمی انقلاب تک پہنچا جس کو سائنسی انقلاب (scientific revolution) کہا جاتا ہے۔ اِس سائنسی انقلاب نے اُس پیشین گوئی کو واقعہ بنا دیا جس کی خبر قرآن میں اِن الفاظ میں دی گئی تھی : سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41: 53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ موجودہ زمانے میں جمہوری انقلاب اور سائنسی انقلاب کی صورت میں جو انقلابات ظہور میں آئے، وہ پوری طرح اسلام کے حق میں تھے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ جدید دور (modern age) پورے معنوں میں ایک موافق اسلام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page