زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 618
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے۔ مگر اس سے مراد کوئی سیاسی یا حکومتی انقلاب نہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ لوگوں سے لڑ کر اسلامی حکومت‘‘ قائم کرو۔ اس سے مراد مکمل طور پر ایک غیر سیاسی انقلاب ہے، یعنی ایک ایسا انقلاب جس کے بعد تمام مواقع (opportunities) اہل ایمان کے لیے کھل جائے۔ اہل ایمان کے لیے یہ ممکن ہو جائے کہ وہ کسی رکاوٹ کے بغیر دین توحید کی پیروی کریں اور کسی رکاوٹ کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام کر سکیں اس انقلاب سے مراد بہ اعتبار مواقع (in terms of opportunities) انقلاب ہے، نہ کہ بہ اعتبار سیاسی اقتدار (in terms of political power) انقلاب۔ اسلامی حکومت کا تصور اسلامی حکومت یا خدائی حکومت کا تصور قرآن میں سرتا سراجنبی (alien) ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ حکومت انسان کی ہوتی ہے، نہ کہ اسلام کی۔ اس لیے قرآن میں جہاں حکومت کا ذکر ہے، وہاں اُس کو انسان سے منسوب کیا گیا ہے۔ مثلاً: اَلَّذِيْنَ اِنْ مَّكَّنَّهُمْ فِي الْاَرْضِ (22:41) ۔ یعنی، یہ وہ لوگ ہیں جن کو اگر ہم زمین میں غلبہ دیں۔ اور وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ (24:55) ۔ یعنی، اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق ، یہ اللہ کا مطلوب ہی نہیں کہ دنیا میں ہمیشہ اہل ایمان کی حکومت قائم رہے یا لوگوں سے لڑ کر حکومت پر قبضہ کیا جائے، تا کہ دنیا میں نظام حکومت قائم کیا جا سکے۔ اس قسم کا سیاسی نشانہ اللہ نے کبھی نہیں دیا۔ اللہ کو جو چیز مطلوب ہے، وہ صرف یہ کہ عمل کے مواقع ہمیشہ کھلے رہیں۔ ہر شخص کے لیے یہ ممکن ہو کہ وہ آزادانہ طور پر دین کے انفرادی تقاضوں کو پورا کر سکے۔ یہی اللہ کا اصل مطلوب ہے اور قرآن میں جو انقلاب برپا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، اُس سے مراد یہی غیر سیاسی انقلاب ہے۔ اقامت نظام، اقامت مواقع اللہ کے تخلیقی پلان کے مطابق، دنیا میں جو چیز مطلوب ہے، وہ اقامتِ نظام نہیں، بلکہ اقامتِ مواقع ہے، یعنی ایسا نہیں ہے کہ ایک مقرر قسم کا سوشیو پولیٹکل (socio-politicial) نظام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader