زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 619
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے اور اہل ایمان کی یہ ذمے داری ہے کہ وہ اس نظام کو اُس کے تمام اطراف و جوانب کے ساتھ زمین پر قائم کریں۔ دین کا یہ مبنی بر نظام تصور (system-based concept) سراسر ایک مبتدعانہ تصور ہے۔ اس قسم کا تصور دین صرف کچھ لوگوں کے خود اپنے ذہن کی پیدوار ہے، خدا اور رسول کے دین سے اُس کا کوئی تعلق نہیں۔ اس قسم کا تصورِ دین وہی چیز ہے جس کو مضاہات (9:30) کہا گیا ہے۔ اللہ کے نقشہ تخلیق کے مطابق، اصل مطلوب چیز یہ ہے کہ ہر قسم کے مواقع پوری طرح کھلے ہوئے ہوں، ہر انسان کو مکمل آزادی ہو کہ وہ دین کے معاملے میں جس طرح چاہے اپنی قوتوں کو استعمال کرے۔ قدیم زمانے میں جارحانہ شرک، مذہبی جبراور استبدادی حکومت (despotism) کا نظام قائم تھا۔ ہزاروں سال کی روایات کے نتیجے میں یہ ذہن لوگوں کے اوپر چھا گیا کہ وہ اس کے خلاف سوچ نہیں پاتے تھے۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کو جو انقلاب برپا کرنے کا حکم دیا گیا تھا، وہ یہ تھا کہ جدوجہد کرکے اس دور کو ختم کرو اور وہ حالات برپا کرو جب کہ ہر ایک کو مکمل آزادی حاصل ہو جائے اور ہر ایک کے لیے تمام مواقع یکساں طور پر کھل جائیں۔ پیغمبر اور اصحابِ پیغمبر کے ذریعے ساتویں صدی میں جو انقلاب آیا، اُس کی اصل حقیقت یہی تھی۔ وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، حکومت یا خلافت قائم کرنا نہ تھا، بلکہ یہ تھا کہ ہدایت کے تمام مواقع تمام انسانوں کے لیے کھل جائیں، دین خداوندی کے معاملے میں کوئی رکاوٹ باقی نہ رہے۔ اسلام کے دورِ اول میں پیش آنے والا یہی وہ انقلابی واقعہ ہے جس کا ذکر فرانسیسی مورخ ہنری پرین نے ان الفاظ میں کیا ہے ــــ اسلام نے زمین کے نقشے کو بدل دیا۔ روایتی دورِ تاریخ کا خاتمہ کر دیا گیا۔ اس معاملے میں اللہ تعالیٰ کو جو انقلاب مطلوب تھا، وہ ایک نسل یا دو نسل میں انجام نہیں پا سکتا تھا، اس لیے اس انقلاب کو تاریخ میں ایک پر اس کے روپ میں جاری کیا گیا۔ مزید یہ کہ اس عمل میں صرف مسلمان نہیں، بلکہ سیکولر قو میں بھی شریک ہوئیں ۔ اس طرح یہ تاریخی عمل چلتا رہا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader