Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 620

By Maulana Wahiduddin Khan

آخر کار انیسویں اور بیسویں صدی میں مغرب میں اس کی تکمیل ہوئی۔ موجودہ مغربی تہذیب اسی عمل کا نقطۂ انتہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مغربی تہذیب نے تاریخ میں پہلی بار ایسا کیا ہے کہ جو دنیا مسائل سے بھری ہوئی تھی، وہ ہر اعتبار سے کھلے ہوئے مواقع میں تبدیل ہو گئی۔ دین کا اصل مطلوب یہ نہیں ہے کہ موجودہ دنیا میں معیاری اجتماعی نظام بنایا جائے۔ معیاری معاشرہ یا معیاری اجتماعی نظام کی جگہ جنت ہے، نہ کہ موجودہ زمین۔ اللہ کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا میں جو چیز مطلوب ہے، وہ انفرادی سطح پر شخصیت کی تعمیر ہے، یعنی ایسے افراد کا وجود میں آنا جو اپنے اعلیٰ اوصاف کے اعتبار سے، جنت میں داخلے کے مستحق قرار پائیں۔ جنت کی دنیا جنت کیا ہے، قرآن کے مطابق، جنت وہ وسیع دنیا ہے جس کا کیمپس پوری کائنات کے برابر ہوگا۔ جنت وہ معیاری جگہ ہے جہاں تمام محدودیتیں (limitations) اور ناموافق اسباب (disadvantages) ختم ہو جائیں گے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان اس قابل ہوگا کہ وہ زمان و مکاں سے ماورا چیزوں کا احاطہ کر سکے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان براہ راست طور پر اللہ رب العالمین کو دیکھے گا اور اس سے کلام کرے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کی نگاہ پوری انسانی تاریخ کا احاطہ کر سکے گی۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں پوری تاریخ کے تمام منتخب بندے یکجا کیے جائیں گے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اعلیٰ معیاری مناظر کا مشاہدہ کرے، وہ اعلیٰ معیاری نغموں کو سنے، وہ اعلیٰ معیاری ذائقوں کا ٹیسٹ لے سکے۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کا لامحدود دماغ انفولڈ (unfold) ہوگا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں آلاء اللہ اور کلمات اللہ کو قلم بند کیا جائے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ ملے گا۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں انسان کو اللہ کی قربت حاصل ہوگی۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں ہر قسم کی اعلیٰ سرگرمیاں موجود ہوں گی، لیکن یہ تمام سرگرمیاں معیاری معنوں میں پر مسرت سرگرمیاں (joyful activities) ہوں گی، وغیرہ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page