Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 621

By Maulana Wahiduddin Khan

جنتی شخصیت اس طرح کی معیاری دنیا (perfect world) میں قیام کے لیے اعلیٰ ترین سطح کے تیار افراد درکار ہیں۔ صرف اعلیٰ سطح کی تیار شدہ شخصیت ہی اس قابل ہے کہ اس کو جنت جیسی دنیا میں جگہ ملے۔ موجودہ دنیا ایسی قسم کی اعلیٰ شخصیتوں کے بننے کا مقام ہے۔ اس قسم کی اعلی شخصیت کسی کو پیدائشی طور پر نہیں ملتی۔ یہ ہر انسان کا اپنا کام ہے کہ وہ اس معاملے میں اپنے آپ کو باشعور بنائے اور پھر پورے اہتمام کے ساتھ وہ اپنے اندر اس قسم کے انسان کی تشکیل کرے۔ مذکورہ قسم کی جنتی شخصیت بلا شبہ صرف ایک صاحب ایمان کے اندر بنتی ہے، مگر صاحب ایمان سے مراد وہ شخص ہے جس کو معرفت کے درجے میں ایمان حاصل ہو، وہ اپنے اندر اتنا زیادہ تخلیقی فکر پیدا کرے کہ وہ خود دریافت کرده معرفت (self-discovered realization) پر کھڑا ہو سکے۔ اس کے اندر وہ آفاقی ذہن پایا جائے جو ساری کائنات کو اپنے ربانی رزق کا دستر خوان بنا سکے، جس کی مثبت سوچ (positive thinking) اتنی بڑی ہو کہ وہ منفی آئٹم (negative item) کو بھی مثبت آئٹم (positive item) میں تبدیل کر سکے۔ اس کا عبادتی شعور اتنا ترقی یافتہ ہو کہ وہ اس طرح اللہ کی عبادت کرے، جیسے کہ وہ اللہ کو دیکھ رہا ہے۔ انسان کی تخلیق کے بارے میں قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: اَلَّذِيۡ خَلَقَ الۡمَوۡتَ وَالۡحَيٰوةَ لِيَبۡلُوۡ كُمۡ اَيُّكُمۡ اَحۡسَنُ عَمَلًا (67:2)۔ یعنی، جس نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تا کہ وہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق، موجودہ دنیا میں انسان کو اس لیے بسایا گیا ہے کہ یہاں احسن العمل افراد کا انتخاب کیا جا سکے۔ یہ عمل پوری انسانی تاریخ میں جاری ہے۔ خدائی نظام کے تحت اس دنیا میں ہر فرد کا مکمل ریکارڈ تیار کیا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لیے انسان کو کامل آزادی دی گئی ہے۔ کیوں کہ آزادی کے ماحول ہی میں یہ معلوم کیا جاسکتا ہے کہ کون شخص احسن العمل تھا اور کون شخص احسن العمل نہ تھا۔ قدیم زمانے میں مذہبی جبر کا جونظام قائم تھا، وہ اس میں رکاوٹ تھا کہ کوئی فرد آزادانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page