زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 623
By Maulana Wahiduddin Khan
اسلام کا انقلابی رول مورخ ابن کثیر نے اپنی مشہور کتاب البدایة والنهایة میں ابن اسحاق کے حوالے سے ایک روایت نقل کی ہے۔ اس روایت میں ایک واقعے کا ذکر ہے جو نبوت کے دسویں سال مکہ میں پیش آیا۔ وہ واقعہ یہ ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا ابو طالب اپنی آخر عمر میں جب بیمار ہوئے اور اُن کا مرض بڑھ گیا تو قبیلہ قریش کے لوگوں نے آپس میں کہا کہ حمزہ اور عمر نے اسلام قبول کر لیا اور محمد کا امر (دین) پورے قبیلہ قریش میں پھیل گیا۔ آؤ، ہم ابو طالب کے پاس چلیں ۔ وہ ہم سے عہد لے لیں اپنے بھتیجے کے بارے میں اور بھتیجے سے عہد لے لیں ہمارے بارے میں۔ کیوں کہ خدا کی قسم، ہم اس سے مامون نہیں ہیں کہ وہ ہمارے امر (دین) پر غالب آجائے۔ چنانچہ قریش کے سردار ابو طالب کے پاس آئے اور اُن سے بات کی ۔ یہ تھے - عتبہ بن ربیعہ، شیبہ بن ربیعہ، ابو جہل بن ہشام، امیہ بن خلف، ابو سفیان بن حرب، وغیرہ۔ انھوں نے کہا کہ اے ابو طالب، آپ کا ہمارے نزدیک جو درجہ ہے، وہ آپ کو معلوم ہے۔ آپ پر جو وقت آچکا ہے، وہ آپ خود دیکھ رہے ہیں۔ آپ کے بارے میں ہمیں تشویش ہے۔ ہمارے اور آپ کے بھتیجے کے درمیان جو معاملہ ہے، اُس سے آپ باخبر ہیں۔ آپ ان کو بلائیے۔ اُن سے ہمارے بارے میں عہد لے لیجیے اور ہم سے ان کے بارے میں عہد لے لیجیے، تاکہ وہ ہم سے باز رہیں اور ہم اُن سے باز رہیں، تاکہ وہ ہمارے دین سے تعرض نہ کریں اور ہم ان کے دین سے تعرض نہ کریں۔ پھر ابو طالب نے رسول اللہ کو بلایا اور آپ ان کے پاس آئے۔ ابو طالب نے آپ سے کہا کہ اے میرے بھتیجے، یہ تمھاری قوم کے بڑے لوگ ہیں۔ یہ تمھارے پاس جمع ہوئے ہیں، تاکہ تمھارے اور ان کے درمیان معاہدہ ہو جائے۔ اُس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: يَا عَمّ، كَلِمَةً وَاحِدَةً تُعْطُونَهَا تَمْلِكُونَ بِهَا الْعَرَبَ وَتَدِينُ لَكُمْ بِهَا الْعَعَمْ (البدایة والنهایة، جلد 3، صفحہ 123) ۔ یعنی، اے میرے چچا، میں اُن سے صرف ایک کلمہ چاہتا ہوں جس کو اگروہ دے دیں تو وہ عرب کے مالک بن جائیں گے اور عجم تمھارے تابع ہو جائیں گے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader