Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 629

By Maulana Wahiduddin Khan

دورِ ظلم، دورِ رجل دعوت الی اللہ کا کام ہمیشہ کسی نہ کسی چیلنج کے مقابلے میں انجام دیا جاتا ہے۔ داعی کے خلاف چیلنج مدعو کی طرف سے پیش آتا ہے۔ مدعو اپنے زمانے کے حالات کی پیدا وار ہوتا ہے ۔ داعی، ابدی حقیقت کا نمائندہ ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں، مدعو زمانی حالات کے زیر اثر عمل کرتا ہے۔ داعی کی طاقت اس کی نظریاتی صداقت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، مدعو کی طاقت وقت کا قائم شدہ نظام ہوتا ہے۔ یہ صورتِ حال بظاہر وقت کے ماحول میں داعی کو تنہا بنا دیتی ہے۔ اس کے برعکس، مدعو کے بارے میں ایسا محسوس ہوتا ہے گویا کہ پورا زمانہ اس کے ساتھ ہے۔ اس اعتبار سے، دعوت کے دو بڑے دور ہیں— ایک، ماضی کا دور جب کہ داعی کو ظلم کا مقابلہ کر کے دعوت کا کام کرنا پڑا۔ اس قدیم دور کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں آیا ہے: وَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ (85:8)۔ اور ان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ ایمان لائے اللہ پر جو زبر دست ہے، تعریف والا ہے۔ قرآن کی اس آیت میں اُس گزرے ہوئے دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جب کہ توحید کا اعلان جان کی قربانی کی قیمت پر کیا جاتا تھا۔ اُس زمانے میں ہر جگہ جبر کا نظام (despotism) قائم تھا۔ جبر اور شرک دونوں متحد ہو کر داعی کے مخالف بن جاتے تھے اور یہ کوشش کرتے تھے کہ طاقت کے زور پر وہ اس کو کچل دیں۔ چیلنج کا دوسرا دور وہ ہے جو سائنسی علوم کے ظہور سے پیدا ہوا۔ جب یہ دوسرا دور آیا تو اُسی کے ساتھ آزادی اور جمہوریت کا انقلاب آچکا تھا۔ اب داعی کے خلاف جو چیلنج تھا، وہ ظلم اور جبر کا چیلنج نہیں تھا، بلکہ وہ انسان کے پیدا کردہ علوم کا چیلنج تھا۔ اب داعی کا کام یہ تھا کہ وہ علم کا جواب علم سے دے۔ وہ توحید کی صداقت کو علم کی طاقت کے ذریعے ثابت شدہ بنائے ۔ اس دوسرے دور کا ذکر قرآن کی اس آیت میں کیا گیا ہے: سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page