زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 630
By Maulana Wahiduddin Khan
أَنْفُسِهِمْ حَتَّى يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ (41:53)۔ یعنی، عنقریب ہم ان کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے آفاق میں بھی اور خود ان کے اندر بھی۔ یہاں تک کہ ان پر ظاہر ہو جائے گا کہ یہ قرآن حق ہے۔ قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی کے ربع اول میں اتری۔ اُس وقت مستقبل کے صیغے میں بتایا گیا کہ آئندہ وہ دور آئے گا جب کہ انسانی علم کی بنا پر ایسے افکار وجود میں آئیں گے جو دین توحید کو علم کی سطح پر چیلنج کریں گے۔ اُس وقت داعی کا یہ کام ہوگا کہ وہ جوابی علم کے ذریعے اس چیلنج کا مقابلہ کرے۔ وہ آفاق و انفس کی نشانیوں، بالفاظ دیگر، دلائل فطرت کے ذریعے توحید کی صداقت کو مبرہن کرے ۔ اسی واقعے کو قرآن میں تبیین حق کہا گیا ہے۔ اس دوسرے دور میں نظریہ توحید کو چیلنج کرنے والے جو افکار پیدا ہوں گے ، وہ بظاہر علم انسانی کی بنیاد پر پیدا ہوں گے ، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، وہ علم کی غلط تعبیر (wrong interpretation) کی بنیاد پر کھڑے ہوں گے۔ دعوت توحید کے خلاف یہ بظاہر ایک فکری چیلنج ہوگا ، لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، وہ ایک بے بنیاد (false) چیلنج ہوگا۔ وہ از اول تا آخر حقائق کی غلط تعبیر پر کھڑا ہوگا۔ دعوت کے خلاف یہی دوسرا چیلنج ہے جس کو حدیث میں ”دجال“ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دجال مبالغے کا ایک صیغہ ہے۔ اس کا مطلب ہے: بڑا دھوکے باز (great deciever) ۔ عربی زبان میں سونے کے ملمّع (golden polish) کو دجل کہا جاتا ہے۔ جیسے پیتل کے برتن کے اوپر سونے کا ملمّع کرکے اس کو غلط طور پر سونے کا برتن ظاہر کیا جائے۔ حدیث میں پیشین گوئی کی گئی ہے کہ بعد کے زمانے میں دجال کا ظہور ہوگا۔ یہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ، بات نہیں ہے ، بلکہ وہ ایک دور کی بات ہے۔ اس پیشین گوئی سے مراد بعد کے زمانے میں آنے والا وہ دور ہے جب کہ دعوتی مشن کو ایک نئے چیلنج کا سامنا پیش آئے گا۔ اُس زمانے میں داعی کے خلاف جسمانی ظلم (physical persecution) ختم ہو چکا ہوگا۔ اس کے بجائے شدید تر قسم کا فکری چیلنج (intellectual challenge) پیش آئے گا۔ یہ فکری چیلنج دجل

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader