Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 631

By Maulana Wahiduddin Khan

کی زمین پر کھڑا ہوگا، یعنی علمی حقیقتوں کی باطل تعبیر کر کے اُس سے خود ساختہ طور پر غلط مفہوم نکالنا اور اس طرح انسان کو گمراہ (mislead) کر کے سچائی سے ہٹانے کی کوشش کرنا۔ فکری دجل کے اس دور میں داعی کا کام یہ ہوگا کہ وہ علم کا مقابلہ علم کے ذریعے کرے۔ قدیم زمانے میں اگر داعی کو جہاد بالسّیف کرنا پڑتا تھا تو اس دوسرے دور میں داعی کو جہاد بالعلْم کا طریقہ اختیار کرنا ہوگا، یعنی وہ اہل باطل کے علمی مغالطوں کا بے حقیقت ہونا ثابت کرے گا۔ وہ علم کی غلط تعبیر کی جگہ علم کی صحیح تعبیر پیش کرے گا۔ اِسی دعوتی عمل کو حدیث میں دجال کے مقابلے میں 'حُجّج' کے کردار سے تعبیر کیا گیا ہے (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2937) یعنی حجت کے ذریعے دجالی فتنے کا ابطال۔ دوسرے الفاظ میں، علمی چیلنج کا جواب برتر علمی دلائل سے دینا۔ عظیم ترین شہادت دجال کا یہ دور بیسویں صدی میں اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو چکا ہے۔ اِس دجالی چیلنج کے مقابلے میں جو دعوتی عمل کیا جائے گا اور صداقتِ خداوندی کو جس طرح اعلیٰ علمی دلائل کے ذریعے مبرہن کیا جائے گا، وہ پوری تاریخ دعوت کا سب سے بڑا واقعہ ہوگا۔ اِسی لیے حدیث میں اس کو هَذَا أَعْظَمُ النَّاسِ شَهَادَةً عِنْدَ رَبِّ الْعَالَمِينَ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 2938) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی خداوند عالم کے نزدیک، حق کی سب سے بڑی گواہی۔ حق کی سب سے بڑی گواہی کا مطلب حق کی سب سے افضل گواہی نہیں ہے۔ مذکورہ حدیث رسول میں یہ بات کمیاتی معنوں (quantitative terms) میں کہی گئی ہے، نہ کہ کیفاتی معنوں (qualitative terms) میں۔ یہ بات اِس معنی میں نہیں ہے کہ اس کا درجہ اللہ کے یہاں زیادہ ہوگا، بلکہ اِس معنی میں ہے کہ اپنے ظاہر کے اعتبار سے، وہ شہادت کا سب سے بڑا کام ہوگا۔ ان دو دوروں کو روایتی دور اور سائنٹفک دور میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ روایتی دور میں، دعوت کی حمایت میں فطری دلائل استعمال کیے جاتے تھے، لیکن سائنسی دور میں دعوت کے حق میں نئے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page