Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 632

By Maulana Wahiduddin Khan

دریافت شدہ علمی دلائل استعمال کیے جائیں گے۔ روایتی دور میں دعوت کی تائید کے لیے سادہ قسم کے ذرائع استعمال کیے جاتے تھے، لیکن سائنسی دور میں دعوت کی تائید کے لیے جدید قسم کے ذرائع (پرنٹ میڈیا یا الیکٹرانک میڈیا) کا استعمال کیا جائے گا۔ روایتی دور میں ایسا تھا کہ داعی الگ ہوتا تھا اور مدعو الگ، لیکن سائنسی دور میں ایک انوکھا واقعہ یہ ہوگا کہ خود مدعو داعی کی طاقت بن جائے گا۔ مدعو کی پیدا کردہ تہذیب اور اس کے دریافت کردہ علوم داعی کے لیے پرامن ہتھیار کا کام کریں گے۔ خود مدعو کے ذریعے نئے نئے دعوتی مواقع کھل جائیں گے جن کو استعمال کرکے داعی کے لیے یہ ممکن ہو جائے گا کہ وہ تاریخ کی عظیم ترین شہادت دے سکے —غالباً یہی وہ واقعہ ہے جس کی طرف ایک حدیث رسول میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے کہ اللہ، فاجر انسان کے ذریعے بھی اس دین کی تائید کرے گا (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3062)۔ قدیم لادینیت، جدید لادینیت قدیم زمانے کی لادینیت ظلم پر کھڑی ہوئی تھی۔ اس کو تاریخ مذاہب میں مذہبی جبر (religious persecution) کہا جاتا ہے۔ یہ دور اُس وقت ختم ہوگیا جب دنیا سے بادشاہت (kingship) کا دور ختم ہوا اور دنیا میں مسلمہ طور پر مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور آگیا۔ اس دور کا آغاز اسلام کے ذریعے ہوا، مگر اس کی تکمیل نشاۃ ثانیہ کے بعد یورپ میں ہوئی۔ دورِ جدید کی لادینیت اپنے دعوے کے مطابق، علم (سائنس) پر کھڑی ہوئی ہے۔ اس دوسرے دور کی لادینیت جہاد بالسیف کے ذریعے ختم نہیں ہوسکتی، اس کا خاتمہ صرف جہاد بالعلم کے ذریعے ہوسکتا ہے۔ تاہم یہاں علم سے مراد حقیقی علم نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد علم کی توجیہہ و تعبیر (interpretation) ہے۔ یہ توجیہہ تمام تر مغالطے پر قائم ہے۔ ذیل میں اس کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ 1۔ اس معاملے کی ایک مثال یہ ہے کہ برٹش سائنس داں سر آئزاک نیوٹن (وفات 1727) نے مادی دنیا کا مطالعہ کیا۔ اس مطالعے میں اس نے پایا کہ مادی دنیا کے اندر سبب اور نتیجہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page