زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 633
By Maulana Wahiduddin Khan
(cause and effect) کا اصول پایا جاتا ہے۔ ہر مادی واقعے کے پیچھے ایک مادی سبب ہوتا ہے۔ اس اصول کو اصولِ تعلیل (principle of causation) کہا جاتا ہے۔ نیوٹین نے جو بات کہی تھی، اس کا تعلق مذہب یا عقیدہ سے نہیں تھا، اس نے یہ بات صرف ایک مادی ظاہر ہ کی علمی توجیہہ کے طور پر کہی تھی۔ لیکن الحاد پسند مفکرین نے اس کو بطورِ خود مذہب کے ساتھ وابستہ کر دیا اور کہا کہ یہ سائنسی دریافت خدا کے وجود کی نفی کر رہی ہے۔ انھوں نے اس سے یہ فارمولا بنایا کہ۔ اگر واقعات طبیعی اسباب کے تحت پیش آرہے ہیں تو وہ مافوق الطبیعی اسباب کا نتیجہ نہیں ہو سکتے : If events are due to natural causes, they are not due to supernatural causes. یہ صرف ایک مغالطے کی بات ہے، وہ کوئی دلیل نہیں۔ نیوٹن یا دوسرے سائنس دانوں نے جو بات کہی، وہ صرف ایک طریقہ (method) کی بات تھی۔ اس کے باوجود یہ سوال اپنی جگہ پر قائم رہتا ہے کہ یہ میتھڈ کس نے قائم کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ طبیعی قانون اصل واقعے کی توجیہہ نہیں کرتا، بلکہ طبیعی قانون خود توجیہہ کا طالب ہے : Nature does not explain, nature herself is in need of an explanation. اصولِ تعلیل پر مزید مطالعے کے لیے ملاحظہ ہو : سر جیمز جینز کی کتاب ’پراسرار کائنات‘ (The Mysterious Universe)_ 2۔ علم کے حوالے سے ایک معروف الحادی استدلال یہ ہے کہ دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں مختلف قسم کے نقائص پائے جاتے ہیں۔ ان حضرات کے نزدیک، یہ پرابلم آف اول (problem of evil) ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ اگر اس دنیا کا خالق ایک ایسا خدا ہے جو قادرِ مطلق ہے تو دنیا میں برائی کیوں ہے۔ خدا اس برائی کو ختم کیوں نہیں کرتا۔ کہا جاتا ہے کہ یہ خدا کے وجود کے خلاف سب سے بڑی دلیل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader