Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 634

By Maulana Wahiduddin Khan

مگر یہ دلیل صرف ایک غلط فکر پر مبنی ہے۔ یہ حضرات دنیا کا مطالعہ خود اپنے ذاتی ذہن کے تحت کرتے ہیں، حالانکہ صحیح طریقہ یہ ہے کہ اس کا مطالعہ خود خالق کے تخلیقی منصوبہ (creation plan) کی روشنی میں کیا جائے۔ خالق نے اپنے نقشے کے مطابق، اس دنیا کو دار الامتحان (testing graound) کے طور پر پیدا کیا ہے۔ اِسی مصلحت کی بنا پر خالق نے انسان کو آزادی دی ہے۔ وہ چیز جس کو ’برائی کا مسئلہ‘ کہا جاتا ہے، وہ دراصل اس لیے ہے کہ کچھ انسان اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتے ہیں جس کا نتیجہ فساد ہوتا ہے۔ خالق کے نقشے کے مطابق، یہ صورتِ حال قیامت تک باقی رہے گی۔ برائی سے پاک دنیا (evil-free world) موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں بنے گی، نہ کہ موت سے پہلے کے مرحلۂ حیات میں۔ موجودہ دنیا میں برائی سے پاک فرد (free individual_evil) کا بننا تو ممکن ہے، لیکن موجودہ دنیا میں برائی سے پاک سماج (evil free society) کا قیام ممکن نہیں۔ 3- کہا جاتا ہے کہ خالق کے وجود کے خلاف سب سے بڑی عقلی دلیل وہ نظریہ ہے جس کو نظریۂ ارتقا (theory of evolution) کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ نظریۂ ارتقا محض ایک مفروضہ ہے، نہ کہ کوئی سائنٹفک حقیقت۔ ارتقا کے ایک عالم کے الفاظ میں ارتقا کا نظریہ صرف ایک ورک ایبل (workable) نظریہ ہے، خالص سائنسی معیار پر وہ کوئی ثابت شدہ نظریہ نہیں۔ 4- موجودہ زمانے کا ایک نظریہ وہ تھا جس کو ہیومن ازم (humanism) کہا جاتا ہے۔ نظریۂ ہیومن ازم کا خلاصہ یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان ہی سب کچھ ہے، انسان کے اوپر کوئی اور طاقت موجود نہیں۔ ہیومن ازم کے نظریے کو اس طرح بیان کیا جاتا ہے ۔ سیٹ کی منتقلی خدا سے انسان کی طرف: Transfer of seat from God to man. ہیومن ازم کا نظریہ سراسر ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ یہ ایک ثابت شدہ حقیقت ہے کہ انسان کے پاس کسی بھی قسم کی کوئی طاقت نہیں۔ ایسی حالت میں انسان، خدا کی جگہ کیوں کر لے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page