زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 635
By Maulana Wahiduddin Khan
سکتا ہے۔ اس نظریہ کے ایک حامی جولین ہکسلے نے ایک کتاب لکھی تھی جس کا ٹائٹل یہ تھا انسان تنہا کھڑا ہوتا ہے: Man Stands Alone جولین ہکسلے کی اس کتاب کا نہایت مدلل جواب ایک امریکی سائنس داں نے دیا ہے۔ اس امریکی مصنف کا نام کریسی ماریسن (Cressy Morison) ہے۔ اس کی کتاب کا نام یہ ہے: Man Does not stand Alone جدید مادیت کی پشت پر مختلف ملحدانہ افکار کا حوالہ دیا جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جدید مادیت کے پھیلاؤ کا اصل سبب کوئی فلسفہ یا نظریہ نہیں ہے۔ جدید مادیت کی توسیع زیادہ تر عملی بنیادوں (practical reasons) پر ہوئی ہے، نہ کہ نظریاتی بنیادوں ( theoritical reasons) پر۔ جدید مادیت کے حامی اکثر اپنی حمایت کے لیے سائنس کا حوالہ دیتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ جدید مادیت سائنس پر کھڑی ہوئی نہیں ہے، بلکہ وہ انطباقی سائنس (applied science) پر کھڑی ہوئی ہے جس کا دوسرا نام ماڈرن ٹکنالوجی ہے۔ دورِ جدید کی مسحور کن ترقیاں جس چیز کا نتیجہ ہیں، وہ یہی ماڈرن ٹکنالوجی ہے۔ یہ ماڈرن ٹکنالوجی ہے جس کے نتیجے میں جدید قسم کے شہر بنے، جس کے نتیجے میں جدید قسم کے شاپنگ سنٹر وجود میں آئے، جس کے نتیجے میں جدید قسم کی سواریاں وجود میں آئیں۔ وہ قو میں جن کو ترقی یافتہ قو میں (developed nations) کہا جاتا ہے، ان کی ترقی کی بنیاد یہی ماڈرن ٹکنالوجی ہے۔ موجودہ زمانے میں عمومی طور پر جواباحیت (permissiveness) آئی ہے، وہ زیادہ تر اسی کا نتیجہ ہے۔ لوگ جدید ٹکنالوجی سے پیدا ہونے والی ترقیوں کو دیکھ کر مسحور ہوئے اور اس میں اپنا مستقبل تلاش کرنے لگے۔ یہ مزاج ابتداء صرف دنیوی ترقی کے ہم معنی تھا، لیکن دھیرے دھیرے ہر قیمت پر ترقی حاصل کرنے کا مزاج پیدا ہوا جو بڑھ کر کامل اباحیت تک پہنچ گیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader