زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 679
By Maulana Wahiduddin Khan
کے دو ٹکڑوں کو ایک دوسرے سے ٹکرایا جاتا ہے تو فضا میں موجود ہائیڈروجن کا کچھ حصہ اس ٹکراؤ کی زد میں آ جاتا ہے اور اچانک بھڑک اٹھتا ہے۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ اگر یہ واقعہ پیش آیا تو بلاشبہ یہی وہ واقعہ تھا جس سے انسانی تاریخ میں گیان (معرفت) کا آغاز ہوا۔ اس واقعے کا ایک نہایت اہم پہلو تھا، وہ یہ کہ اس واقعے نے انسان کو بتایا کہ معلوم یا مشہور دنیا کے ماورا بھی ایک دنیا موجود ہے: There is an invisible dimension beyond the visible world. یہ مسئلہ ہسٹری آف تھاٹ (History of Thought) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر جیسا کہ معلوم ہے، ہسٹری آف تھاٹ کے بارے میں ماضی کے بہت کم واقعات تاریخ میں ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ اس لیے اس معاملے میں کوئی تفصیلی نقشہ نہیں بنایا جا سکتا۔ تاہم قیاساً یہ کہا جا سکتا ہے کہ غالباً یہی واقعہ تھا جس سے انسانوں کے درمیان گیان (معرفت) کے سفر کا آغاز ہوا اور پھر ایک کے بعد ایک، چیزیں دریافت ہوتی چلی گئیں۔ مگر عجیب بات ہے کہ ہر دریافت نے صرف یہ بتایا کہ اس کے آگے بھی علم کی کوئی سطح موجود ہے جو ابھی تک دریافت نہیں ہوئی: Every discovery tells us that there is something more to discover. مثلاً حضرت مسیح سے ہزار سال پہلے عراق میں حضرت ابراہیم پیدا ہوئے۔ انھوں نے اپنے وقت کے بادشاہ نمرود (Nemrud) کے سامنے توحید کی دعوت پیش کی۔ اس سلسلے میں انھوں نے کہا کہ یہ خدا ہے جو سورج کو مشرق کی طرف سے نکالتا ہے اور اس کو مغرب کی طرف لے جاتا ہے ۔ کوئی انسان اس نظام کو بدلنے پر قادر نہیں۔ یہ سادہ انداز میں ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ تھا جس کو بعد کے زمانے میں علمائے فلکیات (astronomers) نے دریافت کیا، یعنی زمین اپنے لمبے مدار (orbit) پر گردش کرنے کے علاوہ اپنے محور (axis) پر گھومتی ہے جس سے رات کے بعد دن پیدا ہوتے ہیں۔ مگر یہ بھی آخری بات نہ تھیں۔ اس دریافت نے انسان کے اندر مزید جستجو کے دروازے کھولے اور بعد کو خلائی اجرام کے بارے میں نئی نئی دریافتیں ہوئیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader