Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 680

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح تیسری صدی قبل مسیح میں یونان میں مشہور اسکالر ارشمیدس (Archimedes) پیدا ہوا۔ اس کے ہم عصر بادشاہ نے اس کو حکم دیا کہ وہ اس سوال کا جواب دے کہ کشتی پانی میں کیسے تیرتی ہے اور اس کا قانون کیا ہے۔ ارشمیدس اس سوال کا جواب تلاش کرنے میں مشغول ہو گیا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ وہ پانی کے ٹب میں نہارہا تھا۔ اس دوران ایک موقع پر اس کو ایسا محسوس ہوا کہ اس کا جسم پانی کے اوپر تیر رہا ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے اس نے وہ سائنس دریافت کی جس کو ہائیڈرو اسٹیٹک (hydro static) کہا جاتا ہے۔ اس دریافت کا خلاصہ یہ تھا کہ جب پانی میں کوئی چیز ڈالی جاتی ہے تو وہ پانی کی جتنی مقدار کو ہٹاتی (displace) ہے، اسی کے بقدر وہاں اوپرى دباؤ (upward pressure) پیدا ہوتا ہے۔ اسی فطری عمل کا یہ نتیجہ ہوتا ہے کہ کشتی پانی میں تیرنے لگتی ہے: Hydrostatics: upward thrust exerted on a body immersed in fluid equals weight of fluid displaced. اس طرح، انسان ایک کے بعد ایک دریافتیں کرتا رہا، مگر یہ تمام دریافتیں طبیعیات کے دائرے میں تھیں۔ آخر کار معلوم ہوا کہ طبیعیات (physics) کے ماورا بھی ایک دنیا ہے۔ اس فوق الطبیعی دنیا کے بارے میں عام ذرائع سے کچھ معلوم نہیں کیا جا سکتا۔ اس طرح ایک وقت آیا، جب کہ انسانی سائنس اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اس آخری حد کے بعد علم کا جو اگلا مرحلہ ہے، اس میں سائنس براہ راست مددگار نہیں ہوسکتی۔ یہی وہ مقام ہے، جہاں سے پیغمبرانہ رہنمائی کی حد شروع ہوتی ہے۔ آدمی طبیعیات کی دنیا میں بطور خود واقفیت حاصل کر سکتا ہے، لیکن بالائے طبیعیات جو دنیا ہے، اس کے بارے میں صرف پیغمبر کے ذریعے رہنمائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ پیغمبر، خدائی وحی کے ذریعے بولتا ہے، نہ کہ انسانی تجربات کے ذریعے ۔ یہ پیغمبرانہ رہنمائی اب قرآن کی شکل میں موجود ہے جو محفوظ کلام الہی کی حیثیت رکھتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page