زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 681
By Maulana Wahiduddin Khan
افکار کی تاریخ فلسفے کے بارے میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ قدیم یونان میں اس کا ابتدائی نشوونما ہوا۔ یونانی فلسفہ عام طور پر یہ سمجھتے تھے کہ مادہ (matter) قدیم ہے، یعنی وہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کے یونانی فلسفی ارسطو (Aristotle) کا نظریہ یہی تھا۔ بعد کو یونان کے باہر بھی بڑے بڑے دماغ پیدا ہوئے، جنھوں نے فلسفے کے شعبے میں نمایاں کام انجام دیے۔ تاہم یہ تمام لوگ مادہ (matter) کو قدیم سمجھنے میں مشترک (common) تھے۔ مگر بیسویں صدی عیسوی کے نصف اول میں پہنچ کر کائنات کا یہ قدیم مادی تصور (material concept) ٹوٹ گیا۔ اس کے بعد جو کچھ پیش آیا، وہ برطانوی عالم فلکیات سرجیمز جینز (وفات 1946) کے الفاظ میں یہ تھا: علم کا دریا میکانیکل حقیقت (mechanical reality) سے نان میکانیکل حقیقت (non-mechanical reality) کی طرف چلا جارہا ہے (The Mysterious Universe, p. 138)۔ مذکورہ مادی تعبیر کے تحت یہ نظریہ بنا کہ ہمیں خدا جیسے کسی وجود کو ماننے کی ضرورت نہیں۔ جس فکری ضرورت کے تحت خدا کے وجود کو مانا جارہا تھا، وہ خود اب مادہ (matter) کے ذریعے پوری ہورہی ہے۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ مادہ نے خود اپنے آپ کو پیدا کیا۔ تمام موجودات، مادہ کے اندر اسی طبعی اور کیمیاوی سرگرمیوں (physical and chemical activities) کا نتیجہ ہیں۔ مگر بیسویں صدی کے رُبع اول میں بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ دریافت ہوا۔ بگ بینگ کے نظریے نے بتایا کہ پندرہ بلین سال پہلے خلا میں ایک سپر ایٹم ظاہر ہوا۔ پھر اچانک اس میں ایک دھما کہ (explosion) ہوا۔ اس سپر ایٹم کے بے شمار ذرات وسیع خلا میں بکھر گئے، پھر یہ ذرات مختلف فلکیاتی اجسام (astronomical bodies) کی صورت میں ان گنت تعداد میں اکٹھا ہوئے، اس طرح ہماری کائنات وجود میں آئی۔ بگ بینگ کے نظریے نے کائنات کی قدیم مادی تعبیر کا خاتمہ کر دیا۔ اب خالص علمی اعتبار سے یہ ماننا ممکن ہو گیا کہ اس کائنات کا ایک خالق موجود ہے۔ وہی اس کو کنٹرول کر رہا ہے اور وہی اس کو انتہائی با معنی طور پر چلا رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader