زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 682
By Maulana Wahiduddin Khan
سرآئزاک نیوٹن (وفات 1727) کو ماڈرن سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن کے بعد سائنس میں جونیا دور آیا، اُس میں کچھ نئی حقیقتیں دریافت ہوئیں۔ انھیں میں سے ایک حقیقت وہ ہے جسے کو ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہا جاتا ہے۔ اِس طبعی قانون نے یہ ثابت کیا کہ کائنات اپنی عمر کے لحاظ سے لامحدود (endless) نہیں ہے۔ اس کی ایک مدت ہے اور اس مدت کے پورا ہونے پر اس کا خاتمہ ہو جائے گا۔ میری مراد اُس قانون سے ہے جس کو حرکیات حرارت کا دوسرا قانون (second law of thermodynamics) کہا جاتا ہے۔ اِس طبعی قانون کو دوسرے لفظوں میں، ضابطۂ ناکارگی (Law of Entropy) کہتے ہیں۔ یہ قانون ثابت کرتا ہے کہ کائنات ہمیشہ سے موجود نہیں ہو سکتی۔ ضابطۂ ناکارگی بتاتا ہے کہ حرارت مسلسل باحرارت وجود سے بے حرارت وجود میں منتقل ہوتی رہتی ہے، مگر اس چکر کو الٹا نہیں چلایا جا سکتا۔ ناکارگی، دستیاب توانائی (available energy) اور غیر دستیاب توانائی (unavailable energy) کے درمیان تناسب کا نام ہے۔ اور اس بنا پر یہ کہا جا سکتا ہے کہ اس کائنات کی ناکارگی برابر بڑھ رہی ہے اور ایک وقت ایسا آنا مقدر ہے، جب کہ تمام موجودات کی حرارت یکساں ہو جائے گی اور کوئی کارآمد توانائی باقی نہ رہے گی۔ اس کا نتیجہ یہ نکلے گا کہ کیمیائی اور طبعی عمل کا خاتمہ ہو جائے گا اور زندگی بھی اُسی کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: God Arises، صفحہ 27) مگر اکیسویں صدی کے آغاز میں صورتِ حال یک سر بدل گئی۔ پچھلے ہزاروں سال کے درمیان فلاسفہ اور مفکرین اور سائنس دانوں نے تہذیبی جنت کو وجود میں لانے کا جو خواب دیکھا تھا، وہ اپنی تکمیل سے پہلے ختم ہو گیا۔ ثابت شدہ حالات کے مطابق ، اب اس کی تکمیل کا کوئی امکان نہیں۔ ہزاروں سال سے انسان کا یہ خواب تھا کہ وہ اپنے لیے اس دنیا میں ایک بہتر زندگی بنائے۔ انسان کی اِس تمنا نے وہ چیز پیدا کی جس کو تہذیب (civilization) کہا جاتا ہے۔ تہذیب کا یہ سفر اپنی واضح صورت میں اُس وقت شروع ہوا، جب کہ انسان نے پہیہ (wheel) دریافت کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader