Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 683

By Maulana Wahiduddin Khan

لمبے سفر کے بعد تہذیب یہاں تک پہنچی کہ صنعتی انقلاب وجود میں آگیا اور انسان، موٹر کار اور ہوائی جہاز کے ذریعے تیز رفتاری کے ساتھ اپنا سفر طے کرنے لگا۔ 1970 میں الون ٹا فلر کی کتاب فیوچر شاک (Future Shock) چھپی۔ اس میں مصنف نے یہ اعلان کیا کہ انسانی تہذیب اب انڈسٹریل دور سے نکل کر سپر انڈسٹریل دور میں داخل ہونے والی ہے۔ یہ گویا انسان کے تہذیبی سفر کا آخری مرحلہ ہوگا، جب کہ انسان کے تمام مادی خواب پورے ہو جائیں گے اور انسان مادی راحت کے تمام سامان پالے گا، مگر جلد ہی گلوبل وارمنگ کا ظاہر ہ سامنے آیا اور یہ منصوبہ تکمیل سے پہلے ہی ختم ہو گیا۔ جیسا کہ معلوم ہے، موجودہ زمانے کی تمام مادی ترقیاں جدید صنعتی انقلاب کے ذریعے حاصل ہوئی ہیں۔ یہ جدید صنعتی دور، مشینوں کے ذریعے وجود میں آیا ہے۔ پہلے انسان، فطرت کی پیداوار پر زندگی گزارتا تھا۔ فطرت کا کارخانہ کوئی مسئلہ پیدا کیے بغیر انسان کو اپنی پیدا وار دے رہا تھا۔ مگر صنعتی دور میں انسانی ساخت کی مشینوں کو متحرک رکھنے کے لیے مسلسل ایندھن (fuel) کی ضرورت تھی۔ انسانی ساخت کی ان مشینوں کے حرکت میں آنے سے ایک نیا مسئلہ پیدا ہو گیا۔ وہ کاربن ایمیشن (carbon emission) کا مسئلہ تھا۔ شروع میں یہ مسئلہ بظاہر کوئی سنگین مسئلہ نظر نہیں آتا تھا، لیکن اکیسویں صدی عیسوی کے آتے ہی یہ مسئلہ انتہائی سنگین صورت اختیار کر گیا۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں انسان، فطرت کے فراہم کردہ گھوڑے اور اونٹ پر سواری کرتا تھا۔ یہ گھوڑے اور اونٹ کوئی مسئلہ پیدا نہیں کرتے تھے۔ گھوڑے اور اونٹ فطرت کی پلوشن فری انڈسٹری (pollution free industry) میں پیدا ہوتے تھے اور خود بھی کوئی پلوشن (کثافت) پیدا کیے بغیر ساری عمر اپنا کام کرتے رہتے تھے۔ اس کے مقابلے میں، موجودہ زمانے کی کار اور ہوائی جہاز انسانی ساخت کے کارخانوں میں بنائے گئے ہیں۔ یہ کارخانے لازمی طور پر مہلک قسم کی فضائی کثافت پیدا کرتے ہیں۔ یہ کثافت اب بڑھتے بڑھتے اُس خطرناک نقطے تک پہنچ گئی ہے، جہاں سے اُس کے لیے واپسی ممکن نہیں۔ اب انسان کے لیے اس کی تاریخ کا اگلا مرحلہ صرف یہ ہے کہ وہ موجودہ دنیا سے گزر کر اگلی دنیا میں پہنچ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page