Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 689

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے۔ مثلاً لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي كَبَدِ (90:4)— یعنی ، ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے — اور اِنَّ الْإِنْسَانَ لَفِي خُسْرٍ (103:2)— یعنی، بیشک انسان گھاٹے میں ہے، وغیرہ۔ قرآن کے الفاظ پوری انسانی تاریخ پر منطبق ہوتے ہیں۔ اول دن سے اب تک جو عورت یا مرد اس کرۂ ارض پر پیدا ہوئے، اُن سب کے ساتھ یہی واقعہ پیش آیا کہ آخر کار وہ محدود مدت کے بعد مر گئے اور اُن کی بنائی ہوئی دنیا بالکل اجڑ گئی۔ اس معاملے میں کسی بھی انسان کا کوئی استثنا نہیں۔ تاریخ کا یہ تجربہ ایک سوالیہ نشان ہے، بلکہ سب سے بڑا سوالیہ نشان، وہ یہ کہ انسان احسن تقویم کی حیثیت سے پیدا ہوتا ہے۔ وہ تمام مخلوقات میں افضل مخلوق اور مکرم مخلوق ہے۔ انسان واحد مخلوق ہے جو اپنی ساخت کے اعتبار سے، معیار پسند (idealist) اور کمال پسند (perfectionist) واقع ہوا ہے۔ یہ انسانی شخصیت کا ایک پہلو ہے۔ اس کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان جس دنیا میں پیدا ہوتا ہے، وہ اس کاہیبیٹیٹ نہیں۔ ایک سائنس داں کے الفاظ میں، بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آگیا ہے جو اس کے لیے بنائی گئی تھی : It appears that man has strayed into a world that was not made for him. انسان اور موجودہ دنیا کے درمیان یہ عدم مطابقت ہر عورت اور مرد کے لیے دعوت فکر کی حیثیت رکھتی ہے۔ اگر آدمی حقیقی معنوں میں حق کا متلاشی ہو تو انسانی زندگی کا یہ پہلو اس کے لیے ایک ایسا سراغ (clue) بن جائے گا جس پر غور کرتے ہوئے وہ زندگی کی اصل حقیقت کو دریافت کرلے۔ اس دریافت کے بعد اس کو معلوم ہوگا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے صرف ایک عارضی قیام گاہ ہے، وہ اس کاہیبیٹیٹ نہیں۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اس کا مستحق بنائے کہ موت کے بعد اس کو ابدی جنت میں داخلہ ملے جو کہ انسان کا اصل ہیبیٹیٹ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page