زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 695
By Maulana Wahiduddin Khan
مخلوق کو وہ اپنی اعلیٰ ترین نعمت سے نوازے۔ اس منصوبے کے تحت، اللہ نے ایک معیاری دنیا بنائی۔ یہ دنیا اپنی وسعت کے اعتبار سے، اپنے آپ میں ایک مکمل کائنات تھی۔ اس میں ہر قسم کے اعلیٰ امکانات رکھے گئے تھے۔ اس میں نہ صرف ہر قسم کی نعمتیں تھیں، بلکہ اس میں اعلیٰ ترقی کے ابدی مواقع موجود تھے۔ اس کے بعد اللہ نے انسان کو پیدا کیا اور اس کو مکمل آزادی عطا کی۔ جنت اسی انسان کے فطری یہی ٹیٹ (natural habitat) کے طور پر بنائی گئی ہے۔ اس جنت میں انسان کا داخلہ انتخاب (selection) کی بنیاد پر مقرر کیا گیا۔ موجودہ سیارہ ارض اس مقصد کے لیے سلیکشن گراؤنڈ یا نرسری کی حیثیت رکھتا ہے۔ انسان کو پیدا کر کے اس کو مکمل آزادی دے دی گئی ہے۔ آزادی کے اس ماحول میں جو عورت یا مرد اپنے آپ کو جنت کی دنیا میں بسائے جانے کا مستحق ثابت کریں، اُن کو منتخب کر کے یہ موقع دیا جائے گا کہ وہ جنت میں آباد ہو کر مزید ترقی کی منزلیں طے کریں۔ اس کے برعکس، جو افراد زمینی زندگی کے امتحان میں ناکام ہو جائیں، اُن کو رد کر کے کائناتی کوڑے خانے میں پھینک دیا جائے۔ مذکورہ حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں بتایا گیا ہے کہ جنت کا معاملہ کیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جنت اللہ کے سچے بندوں کے رہنے کی بہترین جگہ ہے۔ وہ ایک عالی شان رہائش گاہ ہے، مگر اپنی ابتدائی صورت میں وہ ایک غیر آباد جگہ ہے۔ اس ابدی جنت کی آبادی کاری کے لیے اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام کیا کہ موجودہ سیارہ ارض کو ایک نرسری یا سلیکشن گراؤنڈ کے طور پر بنایا۔ موجودہ زمین پر جو عورت اور مرد پیدا ہوتے ہیں، وہ گویا نرسری میں لگائے جانے والے پودے ہیں۔ ان پودوں میں جو پودا یہ ثابت کرے گا کہ وہ صحت مند پودا (healthy plant) ہے، اس کو دنیا کی نرسری سے نکال کر جنت کے زیادہ بہتر اور ابدی مقام پر نصب کر دیا جائے گا، تا کہ وہ وہاں کے بہتر ماحول میں پرورش پا کر مزید ترقی کرے اور ابدی طور پر جنت کے شاداب باغ کا حصہ بن جائے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader