زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 696
By Maulana Wahiduddin Khan
اس حدیث میں جن کلمات (سُبْحَانَ اللّٰهِ، وَالْحَمْدُ لِلّٰهِ، وَلَا إِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ، وَاللّٰهُ أَكْبَرُ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللّٰهِ) کا ذکر ہے، وہ بہ اعتبار لفظ مراد نہیں ہیں، بلکہ وہ باعتبارِ معنی مراد ہیں، یعنی ان الفاظ میں جس آئیڈیالوجی کا ذکر ہے، یہ الفاظ جس معرفت کی نمائندگی کرتے ہیں، وہ جس طرزِ فکر (way of thinking) کو بتاتے ہیں، اِس کے مطابق، اپنی سوچ کو بنانا، اس کے مطابق، اپنی شخصیت کی تعمیر کرنا، ان کلمات کی اسپرٹ کو اپنے دل و دماغ میں اتارنا، یہاں تک کہ آدمی ربانی صفات والا انسان بن جائے۔ جو آدمی قبل از موت دو حیات میں ان کلمات کے تقاضے کے مطابق، اپنے آپ کو ڈھالے گا، وہ بعد از موت دو حیات میں خدا کے اُس باغ میں بسنے کا مستحق قرار پائے گا جس کو جنت (paradise) کہا جاتا ہے۔ قرآن میں جنت کا ذکر تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ قرآن ایک اعتبار سے، جنت کا تعارف ہے۔ یہ تعارف اتنے مؤثر انداز میں ہے کہ اس کو پڑھنے والا آدمی گویا جنت کو اپنی آنکھوں سے دیکھنے لگتا ہے۔ اگر آپ اس اعتبار سے، قرآن کا تتبع کریں اور جنت کی آیتوں کو یکجا کر کے اس کا مطالعہ کریں تو آپ کے اندر شدید طور پر یہ جذبہ ابھرے گا کہ آپ جنت کو اپنی منزل بنالیں، آپ کی تمام سرگرمیوں کا رخ جنت کی طرف ہوجائے گا۔ جیسا کہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے: لِمِثْلِ هٰذَا فَلْيَعْمَلِ الْعَامِلُونَ (37:61)۔ یعنی، ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ ابدی عمر، ابدی صحت، ابدی امن قرآن اور حدیث میں جنت اور اہل جنت کا تذکرہ نہایت تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔ اس کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ جنت میں ابدی طور پر ہر قسم کی نعمتیں کمال درجے میں موجود ہوں گی۔ وہاں انسان کی ہر اشتہا (desire) کی تکمیل کا سامان ہوگا۔ وہاں انسان کو کامل معنوں میں فل فل مینٹ (fulfilment) حاصل ہوگا۔ جنت میں انسان کے لیے یہ موقع ہوگا کہ وہ مسلسل طور پر وہاں کی نعمتوں کو انجوائے کرے اور کبھی بورڈم کا شکار نہ ہو۔ جنت ہر اعتبار سے اہل جنت کے لیے آئیڈیل اور پرفیکٹ دنیا ہوگی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader