زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 697
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ انسان اپنے موجودہ وجود کے ساتھ جنت کی نعمتوں سے حقیقی معنوں میں محفوظ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو جو وجود ملا ہے، وہ ہر اعتبار سے، ایک محدود وجود ہے— اس وجود پر بڑھاپا آتا ہے، یہ وجود بیماری اور حادثات سے دوچار ہوتا ہے، یہ وجود زوال (de-generation) کا شکار ہوتا ہے، اس وجود پر موت طاری ہوتی ہے، اس وجود کے آرگن (organs) کمزور و ناکارہ ہوتے رہتے ہیں، اس وجود پر نیند اور تھکاوٹ طاری ہوتی ہے، اس وجود کے حواس (senses) معطل ہوتے رہتے ہیں، وغیرہ۔ ایسی حالت میں انسان کو اگر جنت اس طرح ملے کہ جنت میں ہر قسم کا سامان عیش تو کامل طور پر موجود ہو، لیکن انسان کا وجود یہی موجودہ دنیا والا وجود ہو، جو کہ ہر قسم کی کمزوریوں (weaknesses) کا شکار ہوتا ہے، اس کو ہر قسم کی محدودیت (limitations) لاحق ہوتی ہے، اس کو بدستور جسمانی زوال (physical degeneration) پیش آتا رہے، جیسا کہ وہ اس دنیا میں پیش آتا تھا۔ اگر ایسا ہو تو انسان کے لیے جنت اینٹ پتھر کا ایک ڈھیر بن جائے گی، وہ اس کے لیے لذت اور خوشی کی جگہ ثابت نہ ہوگی۔ جنت انسان کے لیے صرف اُس وقت جنت ہے جب کہ وہ خود جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت رکھتا ہو۔ اگر انسان کے اپنے اندر جنت سے انجوائے کرنے کی طاقت نہ ہو تو جنت اس کے لیے بلا شبہ ایک مصیبت خانہ ہوگی، نہ کہ کوئی عیش خانہ۔ جنت اسی طرح اس کے لیے ایک دارالبد ہوگی، جیسا کہ موجودہ دنیا اس کے لیے دارالبد تھی۔ اس کا تقاضا ہے کہ اہل جنت کو آخرت میں جنت کے ساتھ ایک نیا وجود بھی عطا کیا جائے، ایسا وجود جو ابدی عمر رکھتا ہو، اس کو ایسی صحت ملے جو بھر پورصحت (health in full swing) کی حامل ہو۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ جو شخص موجودہ دنیا کی زندگی میں اپنے آپ کو روحانی اعتبار سے، مطہر شخصیت (spiritually purified personality) کی حیثیت سے ڈیولپ (develop) کرے، اس کو آخرت میں اللہ کے خصوصی عطیہ کے طور پر جسمانی اعتبار سے، مطہر شخصیت

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader