Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 698

By Maulana Wahiduddin Khan

(physically purified personality) حاصل ہوگی ۔ ایسی شخصیت اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کے اعتبار سے ، کامل صفات کی حامل ہوگی ۔ وہ اس قابل ہوگی کہ جنت کی نعمتوں سے بھر پور طور پر خط (enjoyment) حاصل کرے ، وہ کسی بھی پہلو سے محدودیت (limitation) اور ڈس (fulfilment) کے (disadvantage) ایڈوانٹیج احساس میں جیتیار ہے۔ چنانچہ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ جنتی انسان ہمیشہ جوانی کی عمر (youth age) میں رہیں گے ، جیسے کہ وہ صرف 30 سال کی عمر کے ہوں ۔ وہ ہر اُس جسمانی کمزوری ( physical (weakness سے مکمل طور پر پاک ہوں گے جو دنیا کی زندگی میں اُن کے جسم کا لازمی حصہ تھی۔ اِسی طرح جنت کے باشندے ہر قسم کی جسمانی کمی سے پاک ہوں گے۔ مثلاً وہ کبھی بیمار نہیں ہوں گے ۔ اُن کو بول و براز کی حاجت نہ ہوگی ۔ اہل جنت کو جو جسم ملے گا ، وہ ایسا جسم ہوگا جو ابدی طور پر شباب کی حالت میں رہے گا۔ اس پر نیند اور تھکاوٹ اور بڑھاپا طاری نہیں ہوگا۔ جنت میں اہل جنت کو خطاب کر کے یہ اعلان کیا جائے گا کہ اب تم ہمیشہ صحت مند رہو گے ، کبھی بیمار نہ ہوگے ۔ اب تم ہمیشہ زندہ رہوگے ، کبھی تم پر موت نہ آئے گی ۔ اب تم ہمیشہ جوان رہوگے ، کبھی تم بوڑھے نہ ہوگے۔ اب تم ہمیشہ خوش حال رہوگے ، کبھی تنگی میں مبتلا نہ ہوگے ، وغیرہ ۔ (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: مشکوۃ المَصَابيح ، جلد 3 ، كِتَابُ أَحْوَالِ القِيَامَةِ وَبَدْءِ الخَلْقِ، بَابُ صِفَةِ الجَنَّةِ وَأَهْلِهَا) حقیقت یہ ہے کہ جنت اور انسان دونوں ایک دوسرے کے لیے پیدا کیے گئے ہیں ۔ جنت مکمل طور پر انسان کے مطابق حال ہے اور انسان مکمل طور پر جنت کے مطابق حال ۔ جنت انسان کا (habitat) ہے اور انسان جنت کا مطلوب باشندہ (citizen) ۔ انسان کے بغیر جنت کا وجود ادھورا ہے اور جنت کے بغیر انسان کا وجود ادھورا ۔ دونوں ایک دوسرے کے لیے طالب اور مطلوب کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ جنت کے بغیر انسان کی زندگی بے معنی ہے اور انسان کے بغیر جنت کے وجود کی کوئی معنویت نہیں۔ یہ طالب اور مطلوب دونوں آخرت میں اکھٹا کیے جائیں گے اور

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page