Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 699

By Maulana Wahiduddin Khan

اس کے بعد ابدی طور پر ایک دور کمال شروع ہوگا، جس کی خوشیاں کبھی ختم نہ ہوں گی، اور نہ اس کی رونق پر کبھی زوال آئے گا۔ یہ جنت انسان کا انتظار کر رہی ہے، لیکن اس جنت میں داخلہ صرف اُس انسان کو ملے گا جو اپنے آپ کو اس کا مستحق ثابت کرے۔ کلماتِ ذکر کی حقیقت مذکورہ روایات میں پانچ کلمات کا ذکر ہے۔ وہ کلمات یہ ہیں سُبْحَانَ اللَّهِ، وَالْحَمْدُ لِلَّهِ، وَلا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَاللَّهُ أَكْبَرُ، وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ۔ ان کلمات کے جو الفاظ ہیں، وہ محض الفاظ نہیں ہیں، بلکہ وہ گہرے معانی کو بتا رہے ہیں اور یہ الفاظ اپنے اُنھیں گہرے معانی کے اعتبار سے مطلوب ہیں، نہ کہ محض الفاظ کے اعتبار سے، یعنی اُن کا فائدہ محض اُن کی لفظی تکرار میں نہیں ہے، بلکہ ان کی اسپرٹ یا ان کی معنویت کو اپنانے میں ہے۔ لا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ کیا ہے۔ وہ اس حقیقت کا اظہار ہے کہ اللہ تمام طاقتوں کا مالک (all-powerful) ہے۔ سُبْحَانَ الله کیا ہے سبحان اللہ اس حقیقت کی دریافت ہے کہ خدا ہر قسم کے عیب اور نقص سے کامل طور پر پاک ہے۔ الحَمْدُ للہ کیا ہے۔ الحمد للہ در اصل یہ ہے کہ ایک صاحبِ معرفت آدمی اللہ کے کمالات کو دریافت کر کے اس کا شعوری اعتراف کرے۔ لا إِلَهَ إِلَّا الله کیا ہے۔ لا إلٰه إلا الله دراصل تمام معبودوں کو رد کر کے اللہ کو معبودِ حقیقی کے طور پر دریافت کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اللهُ أَكْبَرُ کیا ہے۔ یہ وہ عارفانہ کلمہ ہے جو ایک شخص کی زبان سے اُس وقت بے تابانہ طور پر نکل پڑتا ہے، جب کہ وہ تدبر کے نتیجے میں اللہ کے مقامِ عظمت کو دریافت کرے۔ یہ کلمات دراصل ذکر الہی کے کلمات ہیں۔ ذکر کی حقیقت معرفت ہے اور معرفت الہی بلاشبہ سب سے بڑی نیکی (virtue) ہے۔ لیکن معرفت کوئی سادہ چیز نہیں۔ معرفت سے پہلے دریافت ہے۔ دریافت سے پہلے تدبر ہے، تدبر سے پہلے یکسوئی (concentration) ہے، یکسوئی سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page