زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 700
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلے سنجیدگی ہے۔ آدمی سب سے پہلے سنجیدگی کا ثبوت دیتا ہے، پھر وہ اپنے ذہن کو غیر متعلق چیزوں سے یکسو کرتا ہے، اس کے بعد وہ غور و فکر کرتا ہے، جس کو تدبر کہا جاتا ہے۔ تدبر اس کو دریافت تک پہنچاتا ہے اور دریافت معرفت تک۔ سنجیدہ تفکر کے ان مراحل سے گزرنے کے بعد جب کسی انسان کو اللہ رب العالمین کی معرفت حاصل ہوتی ہے تو اس کے ذہن میں ایک فکری بھونچال آتا ہے، اس کے اندر حقیقت شناسی کا ایک سیلاب امڈ پڑتا ہے۔ یہ ربانی کیفیت جب ایک انسان کی زبان سے بے تابانہ طور پر ظاہر ہوتی ہے تو اسی کا نام ذکر الہی ہے۔ یہ کلمات در اصل اُس شعوری عمل (intellectual process) کو بتاتے ہیں جو ایک صاحب ایمان کے اندر موجودہ دنیا میں جاری ہوتا ہے۔ موجودہ دنیا میں زندگی گزارتے ہوئے ایک صاحب ایمان پر مختلف احوال اور تجربات گزرتے ہیں۔ اگر اس کے اندر ایمانی شعور زندہ ہو تو یہ تمام احوال و تجربات اس کے لیے رزق رب کا ذریعہ بنتے رہیں گے۔ آخر کار وہ اُس مطلوب انسان کا درجہ حاصل کر لے گا جو آخرت کی جنت میں داخلے کے لیے ایک مستحق امیدوار (deserving candidate) کی حیثیت رکھتا ہے۔ قرآن کا موضوع قرآن خالق کائنات کی کتاب ہے۔ قرآن کا موضوع (subject) یہ ہے کہ انسان کے بارے میں اللہ کے تخلیقی منصوبہ سے اس کو آگاہ کیا جائے۔ قرآن کے تمام بیانات براہ راست یا بالواسطہ طور پر اسی معاملے کی وضاحت ہیں۔ مثلاً قرآن کی سورہ ابراہیم میں بتایا گیا ہے کہ انسان دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک انسان وہ ہے جو اپنی زندگی کی تعمیر کلمہ طیبہ‘ (14:24) کی بنیاد پر کرے اور دوسرا انسان وہ ہے جو کلمہ خبیثہ‘ (14:26) کی بنیاد پر اپنے آپ کو کھڑا کرے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جو انسان اپنی زندگی کی تعمیر کلمہ طیبہ‘ کی بنیاد پر کرے، وہ موجودہ دنیا میں بھی اپنا رزق پائے گا اور موت کے بعد کی زندگی میں اس کو اعلیٰ مقامات حاصل ہوں گے۔ اس کے برعکس، جو آدمی کلمہ خبیثہ‘ کو اپنی زندگی کی بنیاد بنائے، اس کو استحکام حاصل نہیں ہوگا، اس کو غیر صحت مند پودے کی طرح اکھاڑ کر پھینک دیا جائے گا، وہ جنت میں داخلے کے لیے نا اہل قرار پائے گا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader