زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 707
By Maulana Wahiduddin Khan
مثال کے طور پر آدم کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے درمیان ایک معاملے پر نزاع ہوئی۔ قابیل سخت غصہ ہو گیا۔ اس نے کہا کہ میں تم کو مار ڈالوں گا۔ اس کے جواب میں ہابیل نے کہا: لَئِنْ بَسَطْتَ إِلَى يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (5:28)۔ یعنی، اگر تم مجھے قتل کرنے کے لیے اپنا ہاتھ اٹھاؤ گے تو میں تم کو قتل کرنے کے لیے تم پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا۔ میں ڈرتا ہوں اللہ سے جو سارے جہان کا رب ہے۔ چنانچہ ہابیل قتل ہو گیا، مگر اس نے اپنے بڑے بھائی قابیل پر ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اُس وقت ہابیل کے سینے میں خوف خدا کا جو طوفان آیا ہوگا، وہ بلاشبہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی عمارتوں سے بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ فرشتوں نے یقیناً اس کو ریکارڈ کیا، لیکن انسان کی آنکھوں نے کبھی اس واقعے کو نہیں دیکھا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ صرف اس لیے تھا کہ وہ ایک شخص کے دل میں پیدا ہوا اور ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اسی طرح چار ہزار سال پہلے جب پیغمبر ابراہیم نے ایک خدائی منصوبے کے تحت اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے بیٹے اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسا دیا۔ اُس وقت ہاجرہ نے پیغمبر ابراہیم سے پوچھا کہ کیا خدا نے آپ کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ہاں۔ اس کے بعد ہاجرہ کی زبان سے نکلا: إِذًا لَّا يُضَيِّعُنَا (پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا)۔ صحرا کے اس بے آب و گیاہ ماحول میں جب ہاجرہ نے یہ الفاظ کہے ہوں گے، اُس وقت ان کے دل میں اعتماد علی اللہ کا ایک عظیم کیفیاتی طوفان بر پا ہوا ہوگا۔ یہ طوفان بلاشبہ مصر کے اہرام اور آگرہ کے تاج محل سے بے شمار گنا زیادہ بڑا واقعہ تھا۔ یہ واقعہ بلاشبہ فرشتوں کے ریکارڈ میں آیا، لیکن انسان کے لیے وہ ایک ناقابلِ ذکر واقعہ بنا رہا۔ کیا یہ عظیم ربانی واقعہ اسی لیے پیش آیا کہ وہ ایک فرد کے دل میں برپا ہو، اس کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اسی طرح ایک واقعہ وہ ہے جو تقریباً تین ہزار سال پہلے حضرت موسیٰ کے زمانے میں پیش

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader