Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 708

By Maulana Wahiduddin Khan

آیا۔ قرآن میں اس واقعے کی تفصیل دیکھی جاسکتی ہے۔ اُس وقت کے بادشاہ فرعون نے مصر کے ماہر جادوگروں کو بلایا، تاکہ وہ حضرت موسیٰ کے معجزے کا مقابلہ کریں۔ طے شدہ منصوبے کے مطابق، ایک میدان میں اہل مصر بڑی تعداد میں اکٹھا ہوئے۔ وہاں جادوگروں نے اپنی رسیاں اور لاٹھیاں میدان میں پھینکیں۔ لوگوں کو نظر آیا کہ وہ رسیاں اور لاٹھیاں سانپ بن کر میدان میں رہی ہیں۔ اُس وقت حضرت موسیٰ نے اپنا عصا میدان میں ڈالا۔ حضرت موسیٰ کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سحر کو نگل گیا۔ جادوگروں نے جب اس واقعے کو دیکھا تو اُن پر ظاہر ہو گیا کہ اُن کا کیسا جادو کا کیس تھا، لیکن موسیٰ کا کیس اس سے مختلف ہے، موسیٰ کا کیس رب العالمین کے پیغمبر کا کیس ہے۔ اس صداقت کے ظاہر ہوتے ہی جادوگروں نے اپنی غلطی کو مان لیا۔ وہ پکار اٹھے: آمَنَّا بِرَبِّ هَارُونَ وَمُوسَى (20:70)۔ یعنی، انھوں نے کہا کہ ہم ہارون اور موسیٰ کے رب پر ایمان لائے۔ فرعون جادوگروں پر سخت غضب ناک ہوا۔ اس نے ان کے قتل کا حکم دے دیا، لیکن جادوگر اپنے فیصلے پر قائم رہے۔ اس کے بعد جو واقعہ پیش آیا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: قَالُوا لَنْ نُؤْثِرَكَ عَلَى مَا جَاءَنَا مِنَ الْبَيِّنَاتِ وَالَّذِي فَطَرَنَا فَاقْضِ مَا أَنْتَ قَاضٍ إِنَّمَا تَقْضِي هَذِهِ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا (20:72)۔ یعنی، جادوگروں نے کہا کہ ہم تجھ کو ہرگز اُن دلائل پر ترجیح نہیں دیں گے جو ہمارے پاس آئے ہیں اور اُس ذات پر جس نے ہم کو پیدا کیا ہے۔ پس تم کو جو کچھ کرنا ہے، اُسے کر ڈالو۔ تم جو کچھ کر سکتے ہو، اسی دنیا کی زندگی کا کر سکتے ہو۔ مصر کے جادوگروں نے یہ جملہ موت کی قیمت پر کہا تھا۔ اُس وقت اُن کے دل میں سچائی کا جو طوفان برپا ہوا ہوگا، وہ بلاشبہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے شمار گنا زیادہ عظیم ہے۔ کیا سچائی کا یہ طوفان صرف اس لیے تھا کہ وہ کچھ انسانوں کے سینے میں وقتی طور پر برپا ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے اس کا وجود مٹ جائے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page