Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 709

By Maulana Wahiduddin Khan

اِس طرح کا ایک واقعہ وہ ہے جو صحیح البخاری کی ایک روایت میں بتایا گیا ہے۔ قدیم زمانے میں بنی اسرائیل کے تین صالح افراد ایک سفر پر روانہ ہوئے۔ درمیان میں بارش آگئی۔ چنانچہ انھوں نے پہاڑ کے ایک غار میں پناہ لی۔ اُس وقت وہاں لینڈ سلائڈ (landslide) کا ایک واقعہ ہوا۔ اس کی وجہ سے غار کا منہ بند ہو گیا۔ یہ پتھر اتنا بڑا تھا کہ تینوں آدمی مل کر بھی اس کو ہٹا نہیں سکتے تھے۔ اُس وقت انھوں نے طے کیا کہ ہر ایک اپنے کسی خاص عمل کے واسطے سے دعا کرے۔ چنانچہ انھوں نے دعا کی اور پتھر ہٹ گیا، پھر وہ لوگ غار سے باہر نکل آئے۔ ان تینوں میں سے ایک شخص وہ تھا جس نے دعا کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ، میں مزدوروں سے کام لیا کرتا تھا۔ ایک دن ایسا ہوا کہ ایک مزدور کسی بات پر غصہ ہو گیا۔ وہ اپنی مزدوری لیے بغیر چلا گیا۔ اس کے بعد میں نے اس کی مزدوری کی رقم سے ایک گائے خریدی۔ اس گائے میں اتنی برکت ہوئی کہ دھیرے دھیرے گائے اور بکری اور اونٹ کا ایک بہت بڑا گلہ اکٹھا ہو گیا۔ ایک عرصے کے بعد وہ مزدور دوبارہ آیا اور اپنی مزدوری کا تقاضا کیا۔ اُس وقت میرے گھر کے سامنے کا میدان جانوروں کے گلے سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ سب تمھارا ہے، اس کو لے جاؤ۔ مزدور نے کہا کہ مجھ سے استہزا نہ کرو۔ میں نے کہا کہ یہ استہزا کی بات نہیں، یہ سب تمھاری مزدوری کی رقم کا نتیجہ ہے۔ اس کے بعد وہ مزدور اُن تمام جانوروں کو ہنکا کر لے گیا اور ایک بھی نہ چھوڑا۔ میں نے مزدور کو نہیں روکا اور اُس پر راضی رہا۔ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 3465) اُس آدمی نے جب یہ فیصلہ کیا تو اُس وقت اس کے سینے میں دیانت داری (honesty) کا ایک عظیم طوفان برپا ہوا ہوگا۔ یہ واقعہ بلاشبہ اہرام مصر اور تاج محل جیسی سنگی عمارتوں سے بے حساب گنا زیادہ بڑا تھا۔ کیا یہ واقعہ محض اس لیے ہوا کہ وہ صرف ایک شخص کے سینے میں برپا ہو اور پھر ہمیشہ کے لیے معدوم ہو جائے۔ اس طرح کے واقعات جو افراد کی زندگی میں داخلی طور پر پیش آئے، ایسے کسی واقعے کو اُس فرد نے تو یقیناً جانا جس کو اس کا تجربہ پیش آیا تھا، لیکن اس کی اپنی ہستی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page