کائناتى معنویت کی توجیہ
Urdu book, p. 70
By Maulana Wahiduddin Khan
برٹش سائنس داں نیوٹن کو جدید سائنس کا بانی سمجھا جاتا ہے۔ نیوٹن سے پہلے دنیا میں توہمات (superstitions) کا زور تھا۔ اُس وقت یہ سمجھ لیا گیا تھا کہ خداؤں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ مثلاً سن گاڈ (sun god)، مون گاڈ (moon god)، رین گاڈ (rain god) وغیرہ۔ نیوٹن نے اِس معاملے کا سائنسی مطالعہ کیا۔ اُس نے کہا کہ چار طاقتیں (forces) ہیں جو کائنات کے نظام کو کنٹرول کرتی ہیں۔ وہ چار طاقتیں یہ ہیں: 1۔ قوتِ کشش (gravitational force) 2۔ برقی مقناطیسی قوت (electromagnetic force) 3۔ طاقت ور نیوکلیئر قوت (strong nuclear force) 4۔ کم زور نیوکلیئر قوت (weak nuclear force) مگر سائنسی مطالعے کے ذریعے جو دنیا دریافت ہوئی، اُس میں اتنی زیادہ ہم آہنگی (harmony) پائی جاتی تھی کہ یہ ناقابلِ تصور تھا کہ اتنی زیادہ ہم آہنگ کائنات کو کئی طاقتیں کنٹرول کر رہی ہوں۔ اِس لیے سائنسی ذہن اِس تعدّد پر مطمئن نہ تھا۔ مختلف سائنس داں اِس تعداد کو گھٹانے کے لیے کام کر رہے تھے، یہاں تک کہ 1979 میں ایک نئی تحقیق سامنے آئی۔ اِس تحقیق کے مطابق، کائنات کو کنٹرول کرنے والی طاقتیں چار نہیں تھیں، بلکہ وہ صرف تین تھیں۔ اِس دریافت تک پہنچنے والے تین نوبل انعام یافتہ سائنس داں تھے، اُن کے نام یہ ہیں: Sheldon Glashow (b. 1932), Steven Weingberg (b. 1933) Dr. Abdussalam (d. 1996) تاہم سائنسی ذہن تین کی تعداد پر بھی مطمئن نہ تھا۔ وہ اِس تعداد کو مزید گھٹا کر ایک تک پہنچانا چاہتا تھا۔ یہ کام برٹش سائنس داں اسٹیفن ہاکنگ (پیدائش 1942) کے ذریعے انجام پایا۔ اسٹیفن ہاکنگ کو نظریاتی سائنس میں سب سے بڑا زندہ سائنس داں مانا جاتا ہے۔ اس نے پیچیدہ ریاضیاتی حساب (mathematical calculations) کے ذریعے یہ ثابت کیا ہے کہ صرف

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader