زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 710
By Maulana Wahiduddin Khan
کے باہر اُس کا کوئی وجود دکھائی نہیں دیا، وہ صرف غیر مرئی قسم کا ایک ذاتی احساس بن کر رہ گیا۔ ہر عورت اور مرد شعوری یا غیر شعوری طور پر چاہتے ہیں کہ اُن کے داخلی احساسات خارجی واقعہ بن کر نمایاں ہوں۔ جو کچھ انھوں نے وقتی طور پر محسوس کیا تھا، وہ اُسی طرح تاریخ کا مستقل حصہ بن جائے جس طرح دوسری بہت سی چیزیں تاریخ کا مستقل حصہ بنی ہوئی ہیں۔ یہ ایک سوال ہے اور قرآن کے مطالعے سے اِس کا واضح جواب معلوم ہوتا ہے۔ اِس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ دراصل مادی تہذیب ہے جو قیامت کے دن معدوم ہو جائے گی اور جہاں تک روحانی تہذیب کا سوال ہے، وہ اپنی پوری صورت میں ظاہر ہو کر ابدی طور پر اپنا جلوہ دکھاتی رہے گی۔ دو مختلف انجام قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ مادی تہذیب کی ترقیاں صرف وقتی ترقیاں ہیں۔ قیامت کا بھونچال مادی تہذیب اور اس کے تمام آثار کو یکسر مٹا دے گا۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا میں اس کا کوئی وجود باقی نہیں رہے گا۔ اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: اَلمَالُ وَالْبَنُونَ زِينَةُ الحَيوةِ الدُّنيا وَالبَقِيَتُ الصّٰلِحَتُ خَيْرٌ عِندَ رَبِّكَ ثَواباً وَخَيْرٌ أَمَلًا (18:46) ۔ یعنی، مال اور اولاد دنیوی زندگی کی رونق ہیں۔ اور باقی رہنے والے اعمال صالحہ تمھارے رب کے نزدیک اجر اور امید کے اعتبار سے بہتر ہیں۔ قرآن کی اِس آیت میں زِينَةُ الحَيَاةِ الدُّنيَا سے مراد وہی چیز ہے جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے۔ یہ مادی تہذیب خواہ بظاہر کتنا ہی زیادہ پُر رونق ہو، بہر حال وہ وقتی طور پر صرف امتحان کی مدت تک کے لیے ہے۔ قیامت کا بھونچال اِس کو پوری طرح مٹا دے گا۔ اِس کے بعد زمین کا وہ حال ہوگا جس کو قرآن میں قَاعاً صَفْصَفًا (20:106) کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی چٹیل میدان۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader