زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 711
By Maulana Wahiduddin Khan
'بَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتِ‘ کا لفظی ترجمہ ہے: باقی رہنے والے اعمال صالحہ۔ صالح عمل حقیقتاً وہ ہے جو صالح نیت سے کیا گیا ہو۔ ’باقیَات الصَّالِحَاتِ‘ دوسرے لفظوں میں کسی عمل کے کیفیاتی حصہ (qualitative content) کا نام ہے۔ عمل کا یہ کیفیاتی حصہ کہاں واقع ہوتا ہے، وہ ایک مرد یا عورت کے داخلی وجود میں واقع ہوتا ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو ہم نے قابل فہم بنانے کے لیے روحانی تہذیب کے الفاظ میں بیان کیا ہے۔ قیامت کا بھونچال یہ کرے گا کہ انسانی عمل کے کمیاتی حصہ (quantitative content) کو ڈھا دے گا۔ اس کے بعد انسانی عمل کا صرف کیفیاتی حصہ (qualitative content) باقی رہے گا۔ قرآن میں اہل جنت کے بارے میں ارشاد ہوا ہے: لِلَّذِينَ أَحْسَنُوا الْحُسْنَىٰ وَزِيَادَةٌ (10:26)۔ یعنی، جن لوگوں نے بھلائی کی، ان کے لیے بھلائی ہے اور اس پر مزید بھی۔ اس آیت میں ’’زیادہ‘‘ کا لفظ غالباً اس معنی میں ہے کہ آخرت میں اہل جنت کے ساتھ جو معاملہ ہوگا، وہ صرف یہ نہیں ہوگا کہ ان کے نیک عمل کو قبولیت کا درجہ ملے گا، بلکہ مزید یہ ہوگا کہ عمل کے دوران اُن کے اندر جو اعلیٰ ربانی کیفیات پیدا ہوئی تھیں، وہ خارجی طور پر متشکل ہو جائیں گی۔ یہی خارجی اظہار وہ چیز ہے جس کو ہم نے اسپرچول تہذیب کا نام دیا ہے۔ مادی تہذیب مادی واقعات کے متشکل ہونے سے وجود میں آتی ہے۔ اس کے برعکس، اسپرچول تہذیب وہ تہذیب ہے جہاں اعلیٰ ربانی کیفیات متشکل ہوں۔ موجودہ دنیا جن قوانین کے تحت بنی ہے، وہاں کمیاتی عمل (quantitative deeds) تو بخوبی طور پر متشکل ہو سکتے ہیں، لیکن کیفیاتی عمل (qualitative deeds) یہاں متشکل نہیں ہوسکتے۔ آخرت کی دنیا کے قوانین بالکل مختلف ہوں گے۔ اس طرح وہاں یہ ممکن ہو جائے گا کہ ایک کیفیاتی واقعہ بھی اُسی طرح عملی صورت میں متشکل ہو جائے جس طرح موجودہ دنیا میں کمیاتی واقعہ عملی صورت میں متشکل ہوتا ہے۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتوں کا مزید مطالعہ کیجیے۔ ان آیتوں کے الفاظ اور ان کا ترجمہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader