زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 712
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے: مَّنْ كَانَ يُرِيْدُ الْحَيَوْةَ الدُّنْيَا وَزِيْنَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَھُمْ فِيْھَا وَهُمْ فِيْھَا لَا يُبْخَسُوْنَ أُولَئِكَ الَّذِيْنَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُۖ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوْا فِيْهَا وَبَطِلُ مَّا كَانُوا يَعْمَلُوْنَ (15-16: 11)۔ یعنی، جو لوگ دنیا کی زندگی اور اس کی زینت چاہتے ہیں، ہم ان کے اعمال کا بدلہ دنیا ہی میں دے دیتے ہیں۔ اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔ یہی لوگ ہیں جن کے لیے آخرت میں آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔ انھوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا، وہ نابود ہو گیا اور باطل ہو گیا جو کچھ انھوں نے کمایا تھا۔ قرآن کی اس آیت میں زینتِ دنیا سے مراد تاریخ انسانی کا وہی ظاہر ہے جس کو ہم نے مادی تہذیب کے معروف نام سے بیان کیا ہے۔ اس مادی تہذیب کی عمر صرف قیامت تک کے لیے ہے۔ اس کے بعد وہ مٹادی جائے گی۔ اس کا انجام وہی ہو گا جس کو قرآن کی مذکورہ آیت میں حَبِطَ مَا صَنَعُوا کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی انھوں نے دنیا میں جو کچھ بنایا تھا، وہ نابود ہوگیا (vain are all their deeds)۔ وہ چیز جس کو مادی تہذیب کہا جاتا ہے، وہ گویا کہ اسی موجودہ دنیا میں اپنے لیے ایک دنیا بنانا ہے۔ یہ بلاشبہ خدا کے تخلیقی منصوبے کے خلاف ہے۔ خدا کے تخلیقی منصوبے کے مطابق، موجودہ دنیا عمل کے لیے بنائی گئی ہے، نہ کہ تعمیرِ جنت کے لیے۔ ایسا کرنے والے لوگ خدا کے منصوبے کے خلاف چل رہے ہیں۔ اُن کی ساری سرگرمیاں خدا کے نزدیک غیر مقبول ہیں، اس لیے اُن کا وجود صرف اُس وقت تک ہے جب تک اُن کی امتحان کی مدت ختم نہیں ہوتی۔ امتحان کی مدت ختم ہوتے ہی اُن کی بنائی ہوئی یہ مادی دنیا اُسی طرح ختم کردی جائے گی جس طرح غیر منظور شده تعمیر (unauthorised construction) کو سرکاری طور پر ڈھا دیا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader