Urdu book · اظہارِ دین

زوال کی آخری مثال

Urdu book, p. 713

By Maulana Wahiduddin Khan

اسپرچول تہذیب کا دور قیامت دو دنیاؤں کے درمیان حد فاصل ہے۔ قیامت کا مطلب یہ ہے کہ مادی تہذیب کا دور ختم ہو اور روحانی تہذیب کا دور شروع ہو گیا۔ اسی دوسرے دور کو قرآن میں آخرت کا دور کہا گیا ہے۔ اس دوسرے دور میں یہ ہوگا کہ پوری تاریخ میں بکھرے ہوئے روحانی اجزا (spiritual contents) کو جنت میں یکجا کر دیا جائے، یعنی اسپرچول اجزا کے حامل انسانوں کو بقیہ انسانوں سے الگ کر کے جنت کی معیاری دنیا میں بسادینا۔ اسی حقیقت کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَنَّ الْاَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّلِحُوْنَ (21:105)۔ یعنی، زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ اس واقعے کا ذکر بائبل میں بھی موجود ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں ؀ پرشریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی۔ صادق زمینوں کے وارث ہوں گے اور وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے: But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land and dwell in it forever. (Psalm 37:28-29) اسپرچول تہذیب یا ربانی تہذیب قیامت سے پہلے کی دنیا میں صالح افراد کی سطح پر ظہور میں آئے گی۔ قیامت کے بعد یہ تمام صالح افراد پوری تاریخ بشری سے منتخب کر کے جنت میں بسا دیے جائیں گے۔ اس دوسرے دور حیات میں ان کی داخلی اسپرچول یا داخلی ربانیت خارجی واقعہ بن کر چمک اٹھے گی۔ جو چیز دنیا کی زندگی میں داخلی کیفیت (inner spirit) ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دکھائی نہیں دیتی تھی، وہ آخرت کے بدلے ہوئے ماحول میں خارجی طور پر دکھائی دینے والا واقعہ بن جائے گا۔ اسی حقیقت کو قرآن میں نور کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ صالح افراد کی ربانیت جو موجودہ دنیا میں ایک چھپی ہوئی حقیقت بنی ہوئی تھی، وہ آخرت کی دنیا میں ایک دکھائی دینے والی حقیقت بن جائے گی۔ اس سلسلے میں قرآن کی دو آیتوں کا مطالعہ کیجیے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page