زوال کی آخری مثال
Urdu book, p. 714
By Maulana Wahiduddin Khan
پہلی آیت قرآن کی سورہ الحدید میں ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: يَوْمَ تَرَى الْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ يَسْعَى نُورُهُمْ بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ بُشْرَاكُمُ الْيَوْمَ جَنَّاتٌ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا ذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ (57:12) ۔ یعنی، جس دن تم مومن مردوں اور مومن عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کی روشنی اُن کے آگے اور ان کے دائیں چل رہی ہوگی۔ آج کے دن تم کو خوش خبری ہے اُن باغوں کی جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی، تم اُن میں ہمیشہ رہو گے، یہ بڑی کامیابی ہے۔ اسی طرح سورہ الحدید کی ایک اور آیت میں ارشاد ہوا ہے: ﴿ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُوْلَئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُوْلَئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ (57:19) ۔ یعنی، جو لوگ ایمان لائے اللہ پر اور اس کے رسولوں پر، وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیق اور شہید ہیں۔ ان کے لیے ان کا اجر اور ان کا نور ہے۔ اور جن لوگوں نے انکار کیا اور ہماری نشانیوں کو جھٹلایا، وہی دوزخ والے ہیں۔ اسی قسم کی ایک آیت قرآن کی سورہ التحریم میں آئی ہے۔ اس کے الفاظ یہ ہیں: ﴿ يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَى اللَّهِ تَوْبَةً نَّصُوحاً عَسَى رَبُّكُمْ أَن يُكَفِّرَ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَيُدْخِلَكُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يَوْمَ لَا يُخْزِي اللَّهُ النَّبِيَّ وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ نُورُهُمْ يَسْعَى بَيْنَ أَيْدِيهِمْ وَبِأَيْمَانِهِمْ يَقُولُونَ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا إِنَّكَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (66:8) ۔ یعنی، اے ایمان والو، اللہ کے آگے سچی توبہ کرو۔ امید ہے کہ تمھارا رب تمھارے گناہ معاف کردے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ، نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا۔ اُن کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی، وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب، تو ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل کردے اور ہماری مغفرت فرما۔ بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader